Monday, 15 March 2021

اب جو تم لوٹ کر آؤ بھی تو کیا رکھا ہے

 اب جو تم لوٹ کر آؤ بھی تو کیا رکھا ہے

دل کے سب شہر جلے، آنکھ کے دریا سوکھے

کوئی جَل تھل نہ رہا خون کی شریانوں میں

ایک ہی سال میں یہ جِسم کی دیوار گِری

پُھول شاخوں پہ کھڑے تھے کے اچانک ٹوٹے

اور ہم سوچا کیے تم بھی ہو کتنے جھوٹے

اب جو آنا ہے تو یہ بات سمجھ لو پہلے

تھوک کے خون سے نفرت تو نہیں کھاؤ گے

زرد چہرے سے کہیں ڈر تو نہیں جاؤ گے

ٹوٹ کر پیار کرو گے کہ پلٹ جاؤ گے


طارق عزیز

No comments:

Post a Comment