بھیج ساون کی گھٹا پانی پلا
یا کسی دریا کو لا پانی پلا
گم تھا صحرا میں خیالِ آب جو
خواب میں کہتا رہا پانی پلا
جتنے بادل ہیں تیری مٹھی میں ہیں
اے ہوا! سُن اے ہوا، پانی پلا
بھیج ساون کی گھٹا پانی پلا
یا کسی دریا کو لا پانی پلا
گم تھا صحرا میں خیالِ آب جو
خواب میں کہتا رہا پانی پلا
جتنے بادل ہیں تیری مٹھی میں ہیں
اے ہوا! سُن اے ہوا، پانی پلا
ہنر مندی جو تہمت بھر ملی ہے
تو رسوائی بھی شہرت بھر ملی ہے
مجھے تعبیر کی جھوٹی نمائش
حسیں خوابوں کی جنت بھر ملی ہے
وہ کیسا پیڑ تھا جو چھاؤں اس کی
مجھے سورج کی حِدت بھر ملی ہے
نگری نگری پھرتا ہے آوارہ کون؟
میں اِکتارا ہوں تو ہے بنجارہ کون؟
میرے خوں میں آخر کیسی لذت ہے
اندر اندر لیتا ہے چٹخارہ کون؟
ساحل ساحل پوچھوں اپنے پانی سے
میں ہوں دریا تو ہے میرا دھارا کون؟
ابر لے جاؤ، صبا لے جاؤ
سارا منظر ہی اٹھا لے جاؤ
چاہتے ہو تو سمندر کی طرف
جاؤ لے جاؤ، گھٹا لے جاؤ
ریت کیا ریت کی دیوار ہی کیا
تم تو دریا یو، بہا لے جاؤ