یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھ
کیونکہ میری زباں الگ ہے کچھ
آخری بار جل رہا ہوں کیا؟
اب کے میرا دھواں الگ ہے کچھ
صرف شکلیں ہی ہیں الگ، ورنہ
تجھ میں مجھ میں کہاں الگ ہے کچھ
یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھ
کیونکہ میری زباں الگ ہے کچھ
آخری بار جل رہا ہوں کیا؟
اب کے میرا دھواں الگ ہے کچھ
صرف شکلیں ہی ہیں الگ، ورنہ
تجھ میں مجھ میں کہاں الگ ہے کچھ
سچ چھپاتی رہی ہوا یعنی
دشت کا حال اور تھا یعنی
بندشیں روح و جسم پر خوش ہوں
قید میں بھی ہے اک مزہ یعنی
گر خدا بِن نہیں ہے کچھ بھی یہاں
ہے خدا کا بھی اک خدا یعنی
راستے گھر تمام پتھر کے
ہر طرف تام جھام پتھر کے
وہ لگا شوق بت پرستی کا
ہو گئے ہم غلام پتھر کے
دیر تک میں ہنسا جو دیکھا دیر
پتھروں کے مقام پتھر کے
بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم
بنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہم
ضبطِ غم ہار ہی گیا آخر
اس کو دیکھا تو رو پڑے تھے ہم
تجھ کو کانٹے کہاں سے لگ جاتے
آگے آگے جو چل رہے تھے ہم
پیاس کو دریا رہا، اور خاک کو صحرا رہا
اس کے معنی یہ ہوئے کے یہ سفر اچھا رہا
اب میں ڈوبا تب میں ڈوبا بس اسی امید میں
اک سمندر پاس میرے رات بھر بیٹھا رہا
میں کوئی منزل نہیں تھا میل کا پتھر تھا بس
بعد میرے بھی مسلسل راستہ چلتا رہا
طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیۓ
پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیۓ
پہلے پہلے تو کسی چیز سے ٹکراؤ گے
تب کہیں ذہن کہے گا کہ سنبھل کر چلیۓ
چوٹ دیکھیں گے تو منزل پہ نہیں پہنچیں گے
لگ گئی پاؤں کو جو لگنی تھی ٹھوکر چلیۓ
اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو
میری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہو
یہ کیا کہ ایک سمت ہی جاتی ہے زندگی
کچھ کاروبار شورش سود و زیاں تو ہو
جنت سی کوئی چیز ہو غم کا معاوضہ
بے شک سکوں یہاں نہ ہو لیکن وہاں تو ہو