Showing posts with label چراغ بریلوی. Show all posts
Showing posts with label چراغ بریلوی. Show all posts

Friday, 5 November 2021

یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھ

 یوں بھی میرا بیاں الگ ہے کچھ

کیونکہ میری زباں الگ ہے کچھ

آخری بار جل رہا ہوں کیا؟

اب کے میرا دھواں الگ ہے کچھ

صرف شکلیں ہی ہیں الگ، ورنہ

تجھ میں مجھ میں کہاں الگ ہے کچھ

Sunday, 31 October 2021

سچ چھپاتی رہی ہوا یعنی

 سچ چھپاتی رہی ہوا یعنی

دشت کا حال اور تھا یعنی

بندشیں روح و جسم پر خوش ہوں

قید میں بھی ہے اک مزہ یعنی

گر خدا بِن نہیں ہے کچھ بھی یہاں

ہے خدا کا بھی اک خدا یعنی

Sunday, 17 October 2021

راستے گھر تمام پتھر کے

 راستے گھر تمام پتھر کے

ہر طرف تام جھام پتھر کے

وہ لگا شوق بت پرستی کا

ہو گئے ہم غلام پتھر کے

دیر تک میں ہنسا جو دیکھا دیر

پتھروں کے مقام پتھر کے

بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم

 بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم

بنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہم

ضبطِ غم ہار ہی گیا آخر

اس کو دیکھا تو رو پڑے تھے ہم

تجھ کو کانٹے کہاں سے لگ جاتے

آگے آگے جو چل رہے تھے ہم

Saturday, 16 October 2021

پیاس کو دریا رہا اور خاک کو صحرا رہا

 پیاس کو دریا رہا، اور خاک کو صحرا رہا

اس کے معنی یہ ہوئے کے یہ سفر اچھا رہا

اب میں ڈوبا تب میں ڈوبا بس اسی امید میں

اک سمندر پاس میرے رات بھر بیٹھا رہا

میں کوئی منزل نہیں تھا میل کا پتھر تھا بس

بعد میرے بھی مسلسل راستہ چلتا رہا

Saturday, 18 September 2021

پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیے

 طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیۓ

پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیۓ

پہلے پہلے تو کسی چیز سے ٹکراؤ گے

تب کہیں ذہن کہے گا کہ سنبھل کر چلیۓ

چوٹ دیکھیں گے تو منزل پہ نہیں پہنچیں گے

لگ گئی پاؤں کو جو لگنی تھی ٹھوکر چلیۓ

Sunday, 16 May 2021

اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو

 اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو

میری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہو

یہ کیا کہ ایک سمت ہی جاتی ہے زندگی

کچھ کاروبار شورش سود و زیاں تو ہو

جنت سی کوئی چیز ہو غم کا معاوضہ

بے شک سکوں یہاں نہ ہو لیکن وہاں تو ہو