Sunday, 16 May 2021

اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو

 اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو

میری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہو

یہ کیا کہ ایک سمت ہی جاتی ہے زندگی

کچھ کاروبار شورش سود و زیاں تو ہو

جنت سی کوئی چیز ہو غم کا معاوضہ

بے شک سکوں یہاں نہ ہو لیکن وہاں تو ہو

جبراً نہ کچھ ملے گا تو اصرار کیجئے

بے دست و پا ہوں چھوڑئیے منہ میں زباں تو ہو

لے جائیے بدن کو بھی آخر کہاں پہ آپ

کوئی زمیں تو ہو کہیں اک آسماں تو ہو

آئے یقین کیوں ہمیں جلتا تھا اک بدن

بے شک نہ آگ ہو کہیں لیکن دھواں تو ہو


چراغ بریلوی

No comments:

Post a Comment