اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو
میری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہو
یہ کیا کہ ایک سمت ہی جاتی ہے زندگی
کچھ کاروبار شورش سود و زیاں تو ہو
جنت سی کوئی چیز ہو غم کا معاوضہ
بے شک سکوں یہاں نہ ہو لیکن وہاں تو ہو
جبراً نہ کچھ ملے گا تو اصرار کیجئے
بے دست و پا ہوں چھوڑئیے منہ میں زباں تو ہو
لے جائیے بدن کو بھی آخر کہاں پہ آپ
کوئی زمیں تو ہو کہیں اک آسماں تو ہو
آئے یقین کیوں ہمیں جلتا تھا اک بدن
بے شک نہ آگ ہو کہیں لیکن دھواں تو ہو
چراغ بریلوی
No comments:
Post a Comment