کسی کے روگ میں بھیگی عبادت بھاڑ میں جائے
ضرورت کی عبادت ہو، ضرورت بھاڑ میں جائے
میری تجویز تھی چندا مگر تُو مانتا کب ہے
تو یہ لے روشنی اپنی یہ طاقت بھاڑ میں جائے
محبت یہ نہیں ہوتی کہ عزت پیش کر دیجیے
لٹی ہوں عصمتیں جس میں محبت بھاڑ میں جائے
کسی کے روگ میں بھیگی عبادت بھاڑ میں جائے
ضرورت کی عبادت ہو، ضرورت بھاڑ میں جائے
میری تجویز تھی چندا مگر تُو مانتا کب ہے
تو یہ لے روشنی اپنی یہ طاقت بھاڑ میں جائے
محبت یہ نہیں ہوتی کہ عزت پیش کر دیجیے
لٹی ہوں عصمتیں جس میں محبت بھاڑ میں جائے
گر مِرا ہوتا تو وہ ایسے پرایا ہوتا
میری میت پہ مِرے سامنے آیا ہوتا
میں اسے دل کے نہاں خانے میں رکھتا ایسے
نہ گیا ہوتا کوئی اور نہ آیا ہوتا
ظلم ڈھایا ہے زمانے کی ہواؤں نے بہت
ہائے، افسوس نہ یہ دیپ جلایا ہوتا
میں کروں اعتبار کیا صاحب
اب بھلا ان سے پیار کیا صاحب
زندگی بیتنی تھی، بیت گئی
جوشِ فصلِ بہار کیا صاحب
جب مجھے تیرگی ہے راس بہت
چاند کا انتظار کیا صاحب
میں کیا کہوں کہ یہ کیونکر اداس رہتا ہے
تمہارے بعد تو دل محوِ یاس رہتا ہے
میں کیا کروں گا بھلا زیست بِن تِرے جاناں
کہیں رہوں میں یہ دل بد حواس رہتا ہے
نہ جانے کیسے اذیت سمیٹتا ہی رہا
وفا شناس جو دل کی اساس رہتا ہے
ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو
کس کو دل اور جان بنائے بیٹھے ہو
برسیں آخر بارش جیسے کیوں آنکھیں
تم بادل🌨 مہمان بنائے بیٹھے ہو
دشت کی خاک سمیٹی میں نے پلکوں سے
گھر🏠 اپنا دالان بنائے بیٹھے ہو
کہو تو میں ابھی کچھ اور انتظار کروں
تمہارے نام کا ہی ورد بے شمار کروں
اگر نباہ نہیں سکتے تو دور ہٹ جاؤ
تمہیں ہٹا کے کسی اور سے میں پیار کروں
جو تم سے پہلے گزاری ہے زندگی میں نے
کہو میں کیسے اسے زندگی شمار کروں