Showing posts with label عاصم تنہا. Show all posts
Showing posts with label عاصم تنہا. Show all posts

Monday, 7 November 2022

کسی کے روگ میں بھیگی عبادت بھاڑ میں جائے

 کسی کے روگ میں بھیگی عبادت بھاڑ میں جائے

ضرورت کی عبادت ہو، ضرورت بھاڑ میں جائے

میری تجویز تھی چندا مگر تُو مانتا کب ہے

تو یہ لے روشنی اپنی یہ طاقت بھاڑ میں جائے

محبت یہ نہیں ہوتی کہ عزت پیش کر دیجیے

لٹی ہوں عصمتیں جس میں محبت بھاڑ میں جائے

Wednesday, 14 September 2022

گر مرا ہوتا تو وہ ایسے پرایا ہوتا

 گر مِرا ہوتا تو وہ ایسے پرایا ہوتا

میری میت پہ مِرے سامنے آیا ہوتا

میں اسے دل کے نہاں خانے میں رکھتا ایسے

نہ گیا ہوتا کوئی اور نہ آیا ہوتا

ظلم ڈھایا ہے زمانے کی ہواؤں نے بہت

ہائے، افسوس نہ یہ دیپ جلایا ہوتا

Thursday, 18 August 2022

میں کروں اعتبار کیا صاحب

 میں کروں اعتبار کیا صاحب

اب بھلا ان سے پیار کیا صاحب

زندگی بیتنی تھی، بیت گئی

جوشِ فصلِ بہار کیا صاحب

جب مجھے تیرگی ہے راس بہت

چاند کا انتظار کیا صاحب

Friday, 12 August 2022

میں کیا کہوں کہ یہ کیونکر اداس رہتا ہے

 میں کیا کہوں کہ یہ کیونکر اداس رہتا ہے

تمہارے بعد تو دل محوِ یاس رہتا ہے

میں کیا کروں گا بھلا زیست بِن تِرے جاناں

کہیں رہوں میں یہ دل بد حواس رہتا ہے

نہ جانے کیسے اذیت سمیٹتا ہی رہا

وفا شناس جو دل کی اساس رہتا ہے

Thursday, 11 August 2022

ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو

 ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو

کس کو دل اور جان بنائے بیٹھے ہو

برسیں آخر بارش جیسے کیوں آنکھیں

تم بادل🌨 مہمان بنائے بیٹھے ہو

دشت کی خاک سمیٹی میں نے پلکوں سے

گھر🏠 اپنا دالان بنائے بیٹھے ہو

Wednesday, 3 August 2022

کہو تو میں ابھی کچھ اور انتظار کروں

 کہو تو میں ابھی کچھ اور انتظار کروں

تمہارے نام کا ہی ورد بے شمار کروں

اگر نباہ نہیں سکتے تو دور ہٹ جاؤ

تمہیں ہٹا کے کسی اور سے میں پیار کروں

جو تم سے پہلے گزاری ہے زندگی میں نے

کہو میں کیسے اسے زندگی شمار کروں