Friday, 12 August 2022

میں کیا کہوں کہ یہ کیونکر اداس رہتا ہے

 میں کیا کہوں کہ یہ کیونکر اداس رہتا ہے

تمہارے بعد تو دل محوِ یاس رہتا ہے

میں کیا کروں گا بھلا زیست بِن تِرے جاناں

کہیں رہوں میں یہ دل بد حواس رہتا ہے

نہ جانے کیسے اذیت سمیٹتا ہی رہا

وفا شناس جو دل کی اساس رہتا ہے

میں کیوں کہوں کہ میں تنہا ہوں ہجر کا مارا

وہ بن کے خوشبو یہیں آس پاس رہتا ہے

میں بن کے اس کی تمنا اڑا پھروں تنہا

وہ بن کے میری وفا کا لباس رہتا ہے


عاصم تنہا

No comments:

Post a Comment