وقت
وقت کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے
مِرے پاؤں مٹ گئے ہیں
وہ اڑتا ہوا دکھائی نہیں دیتا
مگر اپنے پیچھے نشان چھوڑتا جاتا ہے
وہ بھی رفتہ رفتہ مٹ کر
مٹی میں مل جاتے ہیں
وقت کی کیا مثال دوں
سبک رفتار، تیز رو
طیارہ جس میں کوئی ریورس گیئر نہیں
یا پھر مسلسل آگے کی طرف
سفر کرتی ہوئی کنوئیر بیلٹ
اور ہم اس پر رکھے کھلونے
اس کی تیز رفتاری کو
اپنا کمال سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں
کچھ پل گزرے یہ
ہمیں گرا کے آگے بڑھ جاتی ہے
مگر عجیب بات ہے
یہ کبھی خالی نہیں رہتی
پرانے ہاتھ گرنے سے پہلے
نئے کھلونے اس پر سوار کرنے میں
اکثر کامیاب ہو جاتے ہیں
اور خود اپنے خوابوں سمیت
کرچیوں میں ڈھل جاتے ہوئے بھی
مطمئن رہتے ہیں
اپنے کلون وقت کے ہاتھوں کھیلنے کو دینے
کا بھی اپنا ہی مزا ہے
سلمیٰ جیلانی
No comments:
Post a Comment