تیری سوچیں لامکاں کی میں مکاں سوچتا ہوں
تو بہت آگے وہاں سے،میں جہاں سوچتا ہوں
میرے اطراف میں افلاس کی وحشت رقصاں
کیسے جائے گی چمن سے یہ خزاں، سوچتا ہوں
دال روٹی ہے ابھی سوچ کا محور و مرکز
میں کہاں یار مِرے حسنِ بتاں سوچتا ہوں
لعل لفظوں کے چنے تم پہ غزل کہنے کو
کس طرح کہنی ہے اندازِ بیاں سوچتا ہوں
شعر میرے بھی مناسب ہیں مگر تُو، تُو ہے
میں تِرے جیسا مرے یار کہاں سوچتا ہوں
تشنگی اپنی جگہ تلخ حقیقت، لیکن
لے پکڑ جام ابھی پیرِ مغاں! سوچتا ہوں
عشق والے تھے جو اک غوطہ میں اس پار لگے
میں کنارے پہ کھڑا سود و زیاں سوچتا ہوں
افتخار حسین الفی
No comments:
Post a Comment