عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جہاں روضۂ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
محمدﷺ کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو کہ وہ صاحب قاب قوسین ٹھہرے
بشر کی سرِ عرش مہماں نوازی، یہ عظمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
جو عاصی کو دامن میں اپنی چھپا لے، جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے
اسےاور کیا نام دے گا زمانہ، وہ رحمت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
خطا کار بندوں پہ لطف مسلسل، شفاعت نہیں ہے،تو پھر اور کیا ہے
قیامت کا اک دن معیّن ہے لیکن ہمارے لیے ہر نفس ہے قیامت
مدینے سے ہم جاں نثاروں کی دوری قیامت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
تم اقبال! یہ نعت کہہ تو رہے ہو مگر یہ بھی سوچا کہ کیا کر رہے ہو
کہاں تم کہاں مدح ممدوحِ یزداں، یہ جرأت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment