Saturday, 13 August 2022

تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے

جسے دیکھنی ہو جنت وہ مدینہ دیکھ آئے

نہ یہ بات شان سے ہے نہ یہ بات مال و زر کی

وہی جاتا ہے مدینے، آقاﷺ جسے بلائے

کیسے وہاں کے دن ہیں کیسی وہاں کی راتیں

انہیں پوچھ لو نبیﷺ کا جو مدینہ دیکھ آئے

جو مدینے لمحے گزرے جو مدینے دن گزارے

وہی لمحے زندگی ہیں، وہی میرے کام آئے

طیبہ کو جانے والے تجھے دیتا ہوں دعائیں

در مصطفیٰؐ پہ جا کے تُو جہاں کو بھول جائے

روضے کے سامنے میں یہ دعائیں مانگتا تھا

میری جاں نکل تو جائے، یہ سماں بدل نہ جائے

لو چلا ہوں میں لحد میں میرے مصطفیٰؐ سے کہ دو

کہ ہوا تیری گلی کی مجھے چھوڑنے کو آئے

وہی غم گسار میرا وہ ظہوری! یار میرا

میری قبر پر جو آئے نعت نبیؐ سنائے


محمد علی ظہوری

No comments:

Post a Comment