عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ معجزۂ نعتِ رسولِ مدنیﷺ ہے
جو لفظ بھی لکھتا ہوں، عقیقِ یمَنی ہے
حرفوں کی قطاریں ہیں کہ رنگوں کے جزیرے
الفاظ کی جھلمل ہے کہ گُل پیرہنی ہے
چہرے کی شعاعوں کے گداگر مہ و خورشید
زُلفوں سے خجل، شب کی ستارہ بدنی ہے
اک تُوؐ کہ تِرے دوش پہ بخشش کی ردائیں
اک میں کہ مِرے ساتھ مِری بے کفَنی ہے
میں سایۂ طُوبیٰ کی خنک رُت سے ہوں واقف
مولیٰ! تِری گلیوں کی مگر چھاؤں گھنی ہے
یہ درد کی دولت بھی میسر کِسے ہو گی
جو اشک ہے آنکھوں میں وہ ہیرے کی کنی ہے
حاصل ہے اسے سایۂ دامانِ پیمبرﷺ
محسن سرِ محشر بھی تو قسمت کا دھنی ہے
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment