Showing posts with label ثاقب کلیم. Show all posts
Showing posts with label ثاقب کلیم. Show all posts

Sunday, 25 June 2023

ہوا ہوں آشنا میں بے خودی سے

 ہوا ہوں آشنا میں بے خودی سے

لگایا دل کو اپنا مئے کشی سے

نبھاتے فرض کو ہیں تندہی سے

"ہمارا حوصلہ ہے زندگی سے"

اندھیری رات کا ہے وہ پُجاری

اُسے ہے چِڑ اے لوگو روشنی سے

Wednesday, 21 June 2023

خرابی دعا کے اثر میں بھی ہے

 خرابی دعا کے اثر میں بھی ہے

کلی جو ہے کیا وہ نظر میں بھی ہے

سرِ عام رُسوا وہ ہونے چلا ہے

یہی تذکرہ تو خبر میں بھی ہے

جہاں جاؤ محنت تو کرنی پڑےگی

یہی بات دوحہ قطر میں بھی ہے

Saturday, 10 June 2023

سختئ آسماں کے قائل ہیں

 سختئ آسماں کے قائل ہیں

زندگی میں زیاں کے قائل ہیں

خوف سے اس لیے لرزتے ہیں

آدمی امتحاں کے قائل ہیں

جی وہ سکتے نہیں بیاباں میں

اس لیے ہی مکاں کے قائل ہیں

Thursday, 8 June 2023

تاریک شب میں راستے سنسان ہو گئے

 تاریک شب میں راستے سنسان ہو گئے

اُلو کی بول سے خطا اوسان ہو گئے

اخبار میں خبر یہ جلی حرف میں چھپی

مجھ کو ٹکٹ دلایا کہا احسان ہو گئے

گھر سے چلا تو ماں کی دعائیں تھی ساتھ میں

منزل ملی ہے پورے سب ارمان ہو گئے