ہوا ہوں آشنا میں بے خودی سے
لگایا دل کو اپنا مئے کشی سے
نبھاتے فرض کو ہیں تندہی سے
"ہمارا حوصلہ ہے زندگی سے"
اندھیری رات کا ہے وہ پُجاری
اُسے ہے چِڑ اے لوگو روشنی سے
ہوا ہوں آشنا میں بے خودی سے
لگایا دل کو اپنا مئے کشی سے
نبھاتے فرض کو ہیں تندہی سے
"ہمارا حوصلہ ہے زندگی سے"
اندھیری رات کا ہے وہ پُجاری
اُسے ہے چِڑ اے لوگو روشنی سے
خرابی دعا کے اثر میں بھی ہے
کلی جو ہے کیا وہ نظر میں بھی ہے
سرِ عام رُسوا وہ ہونے چلا ہے
یہی تذکرہ تو خبر میں بھی ہے
جہاں جاؤ محنت تو کرنی پڑےگی
یہی بات دوحہ قطر میں بھی ہے
سختئ آسماں کے قائل ہیں
زندگی میں زیاں کے قائل ہیں
خوف سے اس لیے لرزتے ہیں
آدمی امتحاں کے قائل ہیں
جی وہ سکتے نہیں بیاباں میں
اس لیے ہی مکاں کے قائل ہیں
تاریک شب میں راستے سنسان ہو گئے
اُلو کی بول سے خطا اوسان ہو گئے
اخبار میں خبر یہ جلی حرف میں چھپی
مجھ کو ٹکٹ دلایا کہا احسان ہو گئے
گھر سے چلا تو ماں کی دعائیں تھی ساتھ میں
منزل ملی ہے پورے سب ارمان ہو گئے