سختئ آسماں کے قائل ہیں
زندگی میں زیاں کے قائل ہیں
خوف سے اس لیے لرزتے ہیں
آدمی امتحاں کے قائل ہیں
جی وہ سکتے نہیں بیاباں میں
اس لیے ہی مکاں کے قائل ہیں
نیک و بد کا حساب رکھتے ہیں
وہ یہاں اور وہاں کے قائل ہیں
کوئی رشتہ نہ ٹوٹتا اس سے
جو یقیں کے گُماں کے قائل ہیں
آپ ثاقب سے پوچھیے وہ بھی
آگ ہے تو دھواں کے قائل ہیں
ثاقب کلیم
No comments:
Post a Comment