Saturday, 10 June 2023

سختئ آسماں کے قائل ہیں

 سختئ آسماں کے قائل ہیں

زندگی میں زیاں کے قائل ہیں

خوف سے اس لیے لرزتے ہیں

آدمی امتحاں کے قائل ہیں

جی وہ سکتے نہیں بیاباں میں

اس لیے ہی مکاں کے قائل ہیں

نیک و بد کا حساب رکھتے ہیں

وہ یہاں اور وہاں کے قائل ہیں

کوئی رشتہ نہ ٹوٹتا اس سے

جو یقیں کے گُماں کے قائل ہیں

آپ ثاقب سے پوچھیے وہ بھی

آگ ہے تو دھواں کے قائل ہیں


ثاقب کلیم

No comments:

Post a Comment