Saturday, 10 June 2023

درد عشق کا ٹھہر گیا مجھ میں

 درد عشق کا ٹھہر گیا مجھ میں

میری روح میں سمایا وہ فرشتوں سا

دل میں بسا ہے قریبی رشتوں سا

بے اعتنائیوں سے تنگ ہم آ چکے

مرضِ محبت کے طبیب تو جا چکے

فسانۂ محبت میں قول و قرار کیا ہے

سب کچھ توختم ہے اعتبار کیا ہے

عمر میری میں صرف اِک روگ تھا

دل لُٹ گیا اب کے سوگ تھا

محبت کا درد موجود ہے اب تک

درد کا یہ سفر چلے گا کب تک

درد عشق کا ٹھہر گیا مجھ میں


محمد علی پاشا

No comments:

Post a Comment