درد عشق کا ٹھہر گیا مجھ میں
میری روح میں سمایا وہ فرشتوں سا
دل میں بسا ہے قریبی رشتوں سا
بے اعتنائیوں سے تنگ ہم آ چکے
مرضِ محبت کے طبیب تو جا چکے
فسانۂ محبت میں قول و قرار کیا ہے
سب کچھ توختم ہے اعتبار کیا ہے
عمر میری میں صرف اِک روگ تھا
دل لُٹ گیا اب کے سوگ تھا
محبت کا درد موجود ہے اب تک
درد کا یہ سفر چلے گا کب تک
درد عشق کا ٹھہر گیا مجھ میں
محمد علی پاشا
No comments:
Post a Comment