کچھ اتنا مضطرب اے دوست تیری یاد کرتی ہے
کہ ان ہم سے ہماری زندگی فریاد کرتی ہے
خزاں کا راز کچھ ہو، ہم تو بس اتنا سمجھتے ہیں
چمن کو خود چمن ہی کی فضا برباد کرتی ہے
تغافل کا سبب ہے خود محبت کی ہمہ گیری
اسے کیا یاد آئے جس کو دنیا یاد کرتی ہے
سکونِ دل کی خاطر آہ کی تھی، یہ نہ سمجھے تھے
کہ یہ تو اور بھی دل کا سکوں برباد کرتی ہے
شکستہ پا سہی، لیکن قدم تھمنے نہیں پائے
میں جس منزل سے گزرا ہوں، وہ اب تک یاد
کہاں تک حسن بھی آخر کرے تاراجِ غم دل کو
محبت روز اک دنیا نئی آباد کرتی ہے
خیالِ قُربِ منزل دور کر دیتا ہے منزل سے
کہ یہ آسودگی ذوقِ طلب برباد کرتی ہے
کچھ ایسے نقش بھی راہِ فنا میں چھوڑ آیا ہوں
کہ دنیا دیکھتی ہے اور مجھ کو یاد کرتی ہے
یہاں تک بڑھ چکا ہے جذبۂ جوشِ وفا تسکیں
کہ اب ان کی نگاہِ لطف بھی ناشاد کرتی ہے
تسکین قریشی
No comments:
Post a Comment