زہر کو ہم دوا نہیں کہتے
ہم سزا کو جزا نہیں کہتے
بخش دیتے ہیں وہ خطا ان کی
خود وہ جس کو خطا نہیں کہتے
ہم سے ملتے ہیں جو محبت سے
ان کو ہم کج ادا نہیں کہتے
زہر کو ہم دوا نہیں کہتے
ہم سزا کو جزا نہیں کہتے
بخش دیتے ہیں وہ خطا ان کی
خود وہ جس کو خطا نہیں کہتے
ہم سے ملتے ہیں جو محبت سے
ان کو ہم کج ادا نہیں کہتے
شہر طلب بھی جل گیا آہ جو بے شمار کی
سوزِ وفا نے زندگی عشق کی سوگوار کی
دردِ فراق بڑھ گیا، آنکھ سے اشک بہہ گئے
نشترِ غم کی ہر خلش ہم نے جگر کے پار کی
روشن ہوا چراغِ دل، نُور میں ڈھل گئی ہے رات
بات زبان پہ آئی تھی ہجر میں ان کے پیار کی
صلہ جو پیار کا نفرت ہے کوئی بات نہیں
تمہیں جو غیر سے الفت ہے کوئی بات نہیں
مجھے نکال رہے ہو حضور! محفل سے
جو یہ شعارِ محبت ہے کوئی بات نہیں
سمجھ رہے ہو رقیبوں کو تم رفیق اپنا
یہ چند روزہ رفاقت ہے کوئی بات نہیں
محفل سے ان کی درد لیا، کیا بُرا کیا
دل کا سکوں خوشی سے دیا، کیا برا کیا
جوشِ جنوں میں مر کے جیا، کیا برا کیا
دامن کو تار تار کیا،۔ کیا برا کیا
ساقی! تیرے فراق میں جینا حرام ہے
مجبور ہو کے زہر پیا، کیا برا کیا