Showing posts with label بسمل جلالوی. Show all posts
Showing posts with label بسمل جلالوی. Show all posts

Wednesday, 19 November 2025

زہر کو ہم دوا نہیں کہتے

 زہر کو ہم دوا نہیں کہتے

ہم سزا کو جزا نہیں کہتے

بخش دیتے ہیں وہ خطا ان کی

خود وہ جس کو خطا نہیں کہتے

ہم سے ملتے ہیں جو محبت سے

ان کو ہم کج ادا نہیں کہتے

Sunday, 9 November 2025

شہر طلب بھی جل گیا آہ جو بے شمار کی

 شہر طلب بھی جل گیا آہ جو بے شمار کی

سوزِ وفا نے زندگی عشق کی سوگوار کی

دردِ فراق بڑھ گیا، آنکھ سے اشک بہہ گئے

نشترِ غم کی ہر خلش ہم نے جگر کے پار کی

روشن ہوا چراغِ دل، نُور میں ڈھل گئی ہے رات

بات زبان پہ آئی تھی ہجر میں ان کے پیار کی

Friday, 27 December 2024

صلہ جو پیار کا نفرت ہے کوئی بات نہیں

 صلہ جو پیار کا نفرت ہے کوئی بات نہیں

تمہیں جو غیر سے الفت ہے کوئی بات نہیں

مجھے نکال رہے ہو حضور! محفل سے

جو یہ شعارِ محبت ہے کوئی بات نہیں

سمجھ رہے ہو رقیبوں کو تم رفیق اپنا

یہ چند روزہ رفاقت ہے کوئی بات نہیں

Sunday, 8 December 2024

محفل سے ان کی درد لیا کیا برا کیا

 محفل سے ان کی درد لیا، کیا بُرا کیا

دل کا سکوں خوشی سے دیا، کیا برا کیا

جوشِ جنوں میں مر کے جیا، کیا برا کیا

دامن کو تار تار کیا،۔ کیا برا کیا

ساقی! تیرے فراق میں جینا حرام ہے

مجبور ہو کے زہر پیا، کیا برا کیا