عارفانہ کلام حمدیہ کلام
میں سو جاؤں حمدِ خدا کرتے کرتے
اٹھوں وِردِ صلِّ علٰی کرتے کرتے
مقدر بنا اور درِ مصطفٰیﷺ پر
پہنچ ہی گئے التجا کرتے کرتے
جفا کاروں میں گِھر کے نادِ علیؑ ہو
وہ تھک جائیں گے خود جفا کرتے کرتے
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
میں سو جاؤں حمدِ خدا کرتے کرتے
اٹھوں وِردِ صلِّ علٰی کرتے کرتے
مقدر بنا اور درِ مصطفٰیﷺ پر
پہنچ ہی گئے التجا کرتے کرتے
جفا کاروں میں گِھر کے نادِ علیؑ ہو
وہ تھک جائیں گے خود جفا کرتے کرتے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جاتے ہی آقاؐ کے بزمِ عرش یوں اترائی تھی
مثلِ دولہن خُلد کی زیبائش و زیبائی تھی
محفل میلاد اقدسﷺ میں ہوا یہ معجزہ
بُوئے شہر مصطفیٰؐ بادِ صبا لے آئی تھی
گود میں جس کی مِرے سرکار دو عالمؐ پلے
رانیوں شہزادیوں سے اعلٰی تر وہ دائی تھی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو لب پر مِرے یا نبیؐ یا نبیؐ ہے
اسی سے تو ہر بات میری بنی ہے
میں کیوں در بدر جا کے دامن پساروں
نبیﷺ مل گئے اب مجھے کیا کمی ہے
انہیں غیب کا علم رب نے ہے بخشا
نبیﷺ پر عیاں ہر خفی و جلی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جب خدا خود مصطفٰیؐ کی ناز برداری کرے
پھر یہ قرآں کیوں نہ اس کی آئینہ داری کرے
اللہ، اللہ، میرا رہبر ایسا ہے گلزار داں
وادیٔ صحرا میں جو تیار پھلواری کرے
پڑگئی جس پہ نبیﷺ کی اک نگاہ التفات
وہ گدا ہو کر شہنشاہوں کی سرداری کرے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
سدرہ پہ جا کے بلبلِ سدرہ ٹہر گئے
میرے نبیِ تو اس کے بھی آگے گزر گئے
محشر میں گونجے گی یہی ہر سمت سے صدا
آقاؐ کدھر گئے؟؟ میرے آقاؐ کدھر گئے؟؟
نامِ نبیﷺ پہ آیا نہ مرنا جنہیں جناب
وہ لوگ اس زمانے میں بے موت مر گئے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
دین و حیات میں ہے اہم کیا بتا دیا
کر کے سناں کی چھاؤں میں سجدہ بتا دیا
اللہ کی قسم وہ جہنم میں جائے گا
جس نے مِرے حسینؑ کو مردہ بتا دیا
طیبہ سے کربلا کا سفر کر کے آفریں
شبیرؑ نے بہشت کا رستہ بتا دیا