عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جب خدا خود مصطفٰیؐ کی ناز برداری کرے
پھر یہ قرآں کیوں نہ اس کی آئینہ داری کرے
اللہ، اللہ، میرا رہبر ایسا ہے گلزار داں
وادیٔ صحرا میں جو تیار پھلواری کرے
پڑگئی جس پہ نبیﷺ کی اک نگاہ التفات
وہ گدا ہو کر شہنشاہوں کی سرداری کرے
ایک انساں اور کرے اس کے کرم کا تجزیہ
جو گنہگاروں کی محشر میں طرفداری کرے
گھر میں رکھ کر صرف نام مصطفٰیﷺ کی برکتیں
کون ہے بوبکرؓ سی جو آپ سے یاری کرے
قبر پر تاج الشریعہ کے کہا عشاق نے
ابرِ رحمت تیرے مرقد پر گہرباری کرے
رفتہ رفتہ عشق میں آنے لگی وارفتگی
طیبہ چلنے کی کہو زاہد سے تیاری کرے
زاہد رضا بنارسی
No comments:
Post a Comment