Showing posts with label قمر گوالیاری. Show all posts
Showing posts with label قمر گوالیاری. Show all posts

Saturday, 31 January 2026

تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے

 تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے

تم کو پہچان گئے تم پہ بھروسہ کر کے

ہم کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے سورج کی تپش

ہم جھلستے رہے اوروں پہ بھروسہ کر کے

اپنی کوشش سے، پسینہ سے، لہو سے اک دن

ہم چلیں جائیں گے ہموار یہ رستہ کر کے

Saturday, 18 January 2025

شکستہ ناؤ ہے دھارے ہیں کیا کیا جائے

 شکستہ ناؤ ہے دھارے ہیں کیا کیا جائے

کہ دور ہم سے کنارے ہیں کیا کیا جائے

کہیں بھی جائیے، اہلِ نظر نہیں ملتے

ہمارے پاس نظارے ہیں کیا کیا جائے

یہی ہیں وہ کہ جنہیں آستیں میں پالا تھا

یہ ہی تو لوگ ہمارے ہیں کیا کیا جائے

Wednesday, 25 December 2024

جو رہ غم پہ چل نہیں سکتا

 جو رہ غم پہ چل نہیں سکتا

وہ مقدر بدل نہیں سکتا

جس کو کہتے ہیں جذبۂ اخلاص

نفرتوں میں تو پل نہیں سکتا

وہ چراغِ رہِ محبت کیا

جو حوادث میں جل نہیں سکتا

Wednesday, 4 August 2021

کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا

کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا

کیوں مانگتے ہیں لوگ دعا سوچنا پڑا

تیرا بدن، یہ تیری جوانی،۔ تِرا چلن

کس کس کو لگ رہی ہے ہوا سوچنا پڑا

سب کے بدن لباس سے باہر نکل نہ آئیں

یہ ڈنک کون مار گیا سوچنا پڑا؟