تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے
تم کو پہچان گئے تم پہ بھروسہ کر کے
ہم کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے سورج کی تپش
ہم جھلستے رہے اوروں پہ بھروسہ کر کے
اپنی کوشش سے، پسینہ سے، لہو سے اک دن
ہم چلیں جائیں گے ہموار یہ رستہ کر کے
تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے
تم کو پہچان گئے تم پہ بھروسہ کر کے
ہم کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے سورج کی تپش
ہم جھلستے رہے اوروں پہ بھروسہ کر کے
اپنی کوشش سے، پسینہ سے، لہو سے اک دن
ہم چلیں جائیں گے ہموار یہ رستہ کر کے
شکستہ ناؤ ہے دھارے ہیں کیا کیا جائے
کہ دور ہم سے کنارے ہیں کیا کیا جائے
کہیں بھی جائیے، اہلِ نظر نہیں ملتے
ہمارے پاس نظارے ہیں کیا کیا جائے
یہی ہیں وہ کہ جنہیں آستیں میں پالا تھا
یہ ہی تو لوگ ہمارے ہیں کیا کیا جائے
جو رہ غم پہ چل نہیں سکتا
وہ مقدر بدل نہیں سکتا
جس کو کہتے ہیں جذبۂ اخلاص
نفرتوں میں تو پل نہیں سکتا
وہ چراغِ رہِ محبت کیا
جو حوادث میں جل نہیں سکتا
کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا
کیوں مانگتے ہیں لوگ دعا سوچنا پڑا
تیرا بدن، یہ تیری جوانی،۔ تِرا چلن
کس کس کو لگ رہی ہے ہوا سوچنا پڑا
سب کے بدن لباس سے باہر نکل نہ آئیں
یہ ڈنک کون مار گیا سوچنا پڑا؟