Wednesday, 4 August 2021

کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا

کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا

کیوں مانگتے ہیں لوگ دعا سوچنا پڑا

تیرا بدن، یہ تیری جوانی،۔ تِرا چلن

کس کس کو لگ رہی ہے ہوا سوچنا پڑا

سب کے بدن لباس سے باہر نکل نہ آئیں

یہ ڈنک کون مار گیا سوچنا پڑا؟

بیکس غریب پر کہ غریبی ہٹاؤ پر

سرمایہ دار کس پہ ہنسا سوچنا پڑا

کیا وہ ہے بےوقوف کہ جو بولتا ہے سچ

اس بات کو سمجھنا پڑا سوچنا پڑا

قاتل نے آج پھینک دی تلوار کیوں قمر

کاٹا تھا اس نے کس کا گلا سوچنا پڑا


قمر گوالیاری

No comments:

Post a Comment