چپوؤں سے تو کبھی ناؤ سے مر جاتے ہیں
لوگ اولاد کے برتاؤ سے مر جاتے ہیں
کوئی گفتار کی رفتار سے ہوتا ہے ذبیح
ہم تو دریا تِرے ٹہراؤ سے مر جاتے ہیں
قوم، تنظیم، خدا، دوست، محبت، اولاد
دل مفادات کے ٹکراؤ سے مر جاتے ہیں
ساتھ دیں کس کا، نہ دیں ساتھ تو کس کا اے دوست
مشتبہ وقت کے اُلجھاؤ سے مر جاتے ہیں
زہر و شمشیر کے ہر زخم کو سہنے والے
بس کسی لفظ کے اک گھاؤ سے مر جاتے ہیں
خفیہ ہاتھوں کی سیاست کے اکھاڑے میں کئی
پہلوانوں کے کسی داؤ سے مر جاتے ہیں
اچھے اچھوں کو بھی بازار میں بکتے دیکھا
سننے والے تو فقط بھاؤ سے مر جاتے ہیں
گیسو و زُلفِ گِرہ گیر سے بچنے والے
مونچھ اور مونچھ کے اک تاؤ سے مر جاتے ہیں
بے وفائی کو سمجھتے ہیں زنا سے بدتر
جیتے جی نفس کے پتھراؤ سے مر جاتے ہیں
یاد کمزور ہوئی یار کی پھر شیطاں کے
آخری وقت میں گھیراؤ سے مر جاتے ہیں
میرا تقدیر پہ ایمان قوی ہوتا ہے
آدمی نیک بھی سوبھاؤ سے مر جاتے ہیں
خلیل الرحمٰن چشتی
No comments:
Post a Comment