Thursday, 5 August 2021

کچھ دیر اپنی کمانوں کو نیچا کرو آج چھٹی کا دن ہے

 چھٹی کا دن


اگر رات اور صبح میں فرق کوئی نہیں ہے

ہوا میں پرندوں کے ٹوٹے ہوئے پر

بکھرنے لگے ہیں

زمینوں پہ احکام کے لمبے چابک سے

تاریخ داں اپنی گردن جھکائے ہوئے ہیں

نصیبوں کی آواز میں وقت ڈھلنے لگا ہے

تو پھر

نظم لکھنے کی خواہش

گنہگار انصاف کے فیصلوں سے زیادہ بری تو نہیں ہے

اگر موسموں کی رگوں میں لہو جم گیا ہے

شکاری کی آنکھوں میں بارود جلنے لگا ہے

دنوں کے تموج میں

سورج کا چہرہ اترنے لگا ہے

تو پھر

سانس لینے کی خواہش

نقب زن کی دھمکی سے زیادہ بری تو نہیں ہے

مجھے نظم لکھنے دو

اور سانس لینے دو

کچھ دیر اپنی کمانوں کو نیچا کرو

آج چھٹی کا دن ہے


اصغر ندیم سید

No comments:

Post a Comment