دشت کی پیاس بھی دریاؤں کی طغیانی بھی
اپنی آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں حیرانی بھی
شہر میں اپنے سوا بھی کئی دیوانے ہیں
جن کے دامن میں ہے عزت بھی پشیمانی بھی
رقص کرتی ہوئی آتی ہے ہوا جنگل سے
شوق تو بڑھتا ہے بڑھ جاتی ہے ویرانی بھی
دشت کی پیاس بھی دریاؤں کی طغیانی بھی
اپنی آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں حیرانی بھی
شہر میں اپنے سوا بھی کئی دیوانے ہیں
جن کے دامن میں ہے عزت بھی پشیمانی بھی
رقص کرتی ہوئی آتی ہے ہوا جنگل سے
شوق تو بڑھتا ہے بڑھ جاتی ہے ویرانی بھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وقتِ دعا ہے
بھلے دن ہمارے پھرا دے اے مولا
تُو رحمت کے دریا بہا دے اے مولا
ہوس نے اخوت میں ہے پھوٹ ڈالی
دلوں کو ہمارے ملا دے اے مولا
ہیں نا آشنا مقصدِ زندگی سے
جہالت کے پردے ہٹا دے اے مولا
وہی تو رسم و رہِ عاشقی نبھاتے ہیں
جو زخم کھا کے محبت میں مسکراتے ہیں
ہمارے دل میں ہے آلام کا جہاں آباد
اور اس پہ لوگ ہمیں اپنے دُکھ سناتے ہیں
مسافرانِ عدم کارواں پہ کیا گُزری؟
ہم ایک ایسی کہانی تمہیں سناتے ہیں