Showing posts with label آفتاب منعم. Show all posts
Showing posts with label آفتاب منعم. Show all posts

Tuesday, 24 June 2025

دشت کی پیاس بھی دریاؤں کی طغیانی بھی

 دشت کی پیاس بھی دریاؤں کی طغیانی بھی

اپنی آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں حیرانی بھی

شہر میں اپنے سوا بھی کئی دیوانے ہیں

جن کے دامن میں ہے عزت بھی پشیمانی بھی

رقص کرتی ہوئی آتی ہے ہوا جنگل سے

شوق تو بڑھتا ہے بڑھ جاتی ہے ویرانی بھی

Friday, 20 September 2024

بھلے دن ہمارے پھرا دے اے مولا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

وقتِ دعا ہے


بھلے دن ہمارے پھرا دے اے مولا

تُو رحمت کے دریا بہا دے اے مولا

ہوس نے اخوت میں ہے پھوٹ ڈالی

دلوں کو ہمارے ملا دے اے مولا

ہیں نا آشنا مقصدِ زندگی سے

جہالت کے پردے ہٹا دے اے مولا

Thursday, 19 September 2024

وہی تو رسم و رہ عاشقی نبھاتے ہیں

 وہی تو رسم و رہِ عاشقی نبھاتے ہیں

جو زخم کھا کے محبت میں مسکراتے ہیں

ہمارے دل میں ہے آلام کا جہاں آباد

اور اس پہ لوگ ہمیں اپنے دُکھ سناتے ہیں

مسافرانِ عدم کارواں پہ کیا گُزری؟

ہم ایک ایسی کہانی تمہیں سناتے ہیں