Showing posts with label مقداد احسن. Show all posts
Showing posts with label مقداد احسن. Show all posts

Thursday, 16 February 2023

یکسر اس پر امن فضا میں جانے کیسا شور کھلا

 یکسر اس پُر امن فضا میں جانے کیسا شور کُھلا

چیخ اُٹھا خاموش گڈریا، جنگل جاگا، شور کھلا

دُور سے دیکھ کے لگتا تھا خاموش رہے گا ایسے ہی

جب دریا میں اُتر گئے تو، ہم پر اس کا شور کھلا

شوخ طبیعت تھی اپنی اور باتیں ختم نہ ہوتی تھیں

چُپ کے معنی کُھل گئے ہم پر اک دن ایسا شور کھلا

Friday, 4 February 2022

سانس کا بوجھ نہیں اور لگے بھاری بھی

 سانس کا بوجھ نہیں، اور لگے بھاری بھی

اپنا دشمن بھی میں خود مجھ سے مِری یاری بھی

کام کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوتی مجھے

مجھ سے دیکھی نہیں جاتی مِری بیکاری بھی

سامنے ہے وہ مگر چھو نہیں سکتا میں اسے

ہے سہولت بھی میسر مجھے دشواری بھی

Thursday, 6 January 2022

میں وہ جو زندہ و موجود تھا مر گیا

 After death


کچھ منٹ ہی ہوئے ہیں کہ میں

وہ جو زندہ و موجود تھا، مر گیا

شہر والو سنو

میرے مرنے کا اعلان کرتا ہوں میں

باپ کہتا ہے؛ جیسا بھی تھا، میرا بیٹا تو تھا

Saturday, 10 July 2021

تجھ دلفریب جسم کے نقشے میں کچھ نہیں

 تجھ دل فریب جسم کے نقشے میں کچھ نہیں

اے خوش جمال حسن کے حصے میں کچھ نہیں

بدشکل ہو کے پُرسکوں ہوتا ہوں اور میں

یہ بولتا ہوں چاند کے جلوے میں کچھ نہیں

رنگ و سرابِ ہستئ دل بدمزہ ہے دوست

عمرِ رواں کے ایک بھی لمحے میں کچھ نہیں

Tuesday, 29 June 2021

چراغ جلنے لگے تو ہوا نہیں دیتا

چراغ جلنے لگے تو ہوا نہیں دیتا

فقیر ہوں میں کبھی بد دعا نہیں دیتا

تو کیا اسی لیے دنیا نہیں توازن میں؟

وہ جرم دیکھ کے فوراً سزا نہیں دیتا

تُو ایک بار تو کہتا کہ؛ کاش ایسا ہو

میں آسمان زمیں سے ملا نہیں دیتا

Tuesday, 15 December 2020

ہمارے حال پہ کچھ رحم کیجیے سائیں

 ہمارے حال پہ کچھ رحم کیجیے سائیں

ہمارے زخم ابھی تک نہیں بھرے سائیں

ہمارے خواب ادھورے پڑے ہیں آنکھوں میں

ہمارے درد مکمل نہ ہو سکے سائیں

ہمارے وقت سے پہلے مرے ہوئے کچھ لوگ

ہمارے واسطے وجہِ سکون تھے سائیں

Monday, 14 December 2020

آسماں زاد اور زمین افسوس

 آسماں زاد اور زمین افسوس

کیا مکاں اور کیا مکین افسوس

میری حالت پہ جو ہوا اس کو

وہ ہے دنیا کا بہترین افسوس

دام حسن و جمال خالی ہے

اے پری زاد! مہ جبین افسوس

Sunday, 13 December 2020

تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

 تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

کہ ایڈِیسن نے بلب اِیجاد کرنے کے لیے 

کتنی اذیت کا سفر کاٹا

تمہیں تو اپنی آنکھوں کی سہولت ہے

جہاں چاہو

وہاں پر روشنی کر دو

Monday, 7 December 2020

کوئی فضائے آہ و فغاں میں نہیں رہا

 کوئی فضائے آہ و فغاں میں نہیں رہا

اس بے سکون دل کے جہاں میں نہیں رہا

اتنا نہیں کہ صرف مری ماں نہیں رہی

میں اب خدا کے حفظ و اماں میں نہیں رہا

اس دکھ پہ میرے ساتھ پرندے شریک ہیں

اک پیڑ تھا جو میرے مکاں میں نہیں رہا

Sunday, 6 December 2020

دل گلی دیر تک اداس رہی

 دل گلی دیر تک اداس رہی

شاعری دیر تک اداس رہی

میں نے پھینکا نہ جھیل میں پتھر

جل پری دیر تک اداس رہی

اب کوئی بھی نہیں اندھیرے میں

روشنی دیر تک اداس رہی