ہمارے حال پہ کچھ رحم کیجیے سائیں
ہمارے زخم ابھی تک نہیں بھرے سائیں
ہمارے خواب ادھورے پڑے ہیں آنکھوں میں
ہمارے درد مکمل نہ ہو سکے سائیں
ہمارے وقت سے پہلے مرے ہوئے کچھ لوگ
ہمارے واسطے وجہِ سکون تھے سائیں
ہمیں خدا پہ بھروسہ نہیں سکھایا گیا
ہمارے ہاتھ دعا کو نہیں اٹھے سائیں
جو داعیانِ محبت تھے امن چاہتے تھے
ہمارے گاؤں کے وہ لوگ مر چکے سائیں
ہماری ذات کے اندر کے دشت کا منظر
ہمارے سامنے وحشت کے اژدھے سائیں
ہمارے جسم عداوت کی بھٹیوں میں جلے
ہماری روح کے بخیے ادھڑ گئے سائیں
ہمیں وہ لوگ برا جانتے تھے بستی میں
وہ جن کی اپنی جبینوں پہ داغ تھے سائیں
ہمارے ھونٹ تھکے التجائیں کرتے ہوئے
خدا کے واسطے اب کچھ تو بولیے سائیں
مقداد احسن
No comments:
Post a Comment