Showing posts with label مظہر امام. Show all posts
Showing posts with label مظہر امام. Show all posts

Sunday, 21 May 2023

تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحان کرتے

 تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحان کرتے

کہیں چراغ جلاتے، کہیں دھواں کرتے

سفینہ ڈوب رہا تھا، تو کیوں نہ یاد آیا

تِری طلب، تِرے ارماں کو بادباں کرتے

ہوا تھی تیز، جلاتے رہے دلوں کے چراغ

کٹی ہے عمر، لہو اپنا رائیگاں کرتے

Friday, 15 April 2022

دنیا کا یہ اعزاز یہ انعام بہت ہے

 دنیا کا یہ اعزاز یہ انعام بہت ہے

مجھ پر تِرے اکرام کا الزام بہت ہے

اس عمر میں یہ موڑ اچانک یہ ملاقات

خوش گام ابھی گردش ایام بہت ہے

بجھتی ہوئی صبحیں ہوں کہ جلتی ہوئی راتیں 

تجھ سے یہ ملاقات سرِ شام بہت ہے 

Sunday, 19 September 2021

اک گزارش ہے بس اتنا کیجیے

 اک گزارش ہے بس اتنا کیجیۓ

جب کبھی فرصت ہو آیا کیجیۓ

لوگ اس کا بھی غلط مطلب نہ لیں

اجنبیت سے نہ دیکھا کیجیۓ

خود کو اپنی آنکھ سے دیکھا تو ہے

اب مِری آنکھوں سے دیکھا کیجیۓ

Friday, 21 May 2021

زندگی کاوش باطل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

 زندگی کاوشِ باطل ہے مِرا ساتھ نہ چھوڑ

تو ہی اک عمر کا حاصل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

لوگ ملتے ہیں سر راہ گزر جاتے ہیں

تو ہی اک ہم سفر دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

تو نے سوچا ہے مجھے تو نے سنوارا ہے مجھے

تو مرا ذہن مرا دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

Friday, 30 April 2021

اپنے کھوئے ہوئے لمحات کو پایا تھا کبھی

 اپنے کھوئے ہوئے لمحات کو پایا تھا کبھی

میں نے کچھ وقت تِرے ساتھ گزارا تھا کبھی

آپ کو میرے تعارف کی ضرورت کیا ہے

میں وہی ہوں کہ جسے آپ نے چاہا تھا کبھی

اب اگر اشک اُمنڈتے ہیں تو پی جاتا ہوں

حوصلہ آپ کے دامن نے بڑھایا تھا کبھی

Thursday, 29 April 2021

دلوں کے رنگ عجب رابطہ ہے کتنی دیر

 دلوں کے رنگ عجب رابطہ ہے کتنی دیر

وہ آشنا ہے مگر آشنا ہے کتنی دیر

نئی ہوا ہے کریں مشعلِ ہوس روشن

کہ شمعِ درد چراغِ وفا ہے کتنی دیر

اب آرزو کو تِری بے صدا بھی ہونا ہے

تِرے فقیر کے لب پر دعا ہے کتنی دیر

Tuesday, 6 February 2018

حرف دل نارسا ہے ترے شہر میں

حرفِ دلِ نارسا ہے تِرے شہر میں 
ہر صدا بے صدا ہے ترے شہر میں 
کوئی خوشبو کی جھنکار سنتا نہیں 
کون سا گل کھلا ہے ترے شہر میں 
کب دھنک سو گئی کب ستارے بجھے 
کوئی کب سوچتا ہے ترے شہر میں 

بھرا ہوا تری یادوں کا جام کتنا تھا

بھرا ہوا تِری یادوں کا جام کتنا تھا 
سحر کے وقت تقاضائے شام کتنا تھا 
رخِ زوال پہ رنگِ دوام کتنا تھا 
کہ گھٹ کے بھی مِرا ماہِ تمام کتنا تھا 
تھا تیرے ناز کو کتنا مِری انا کا خیال 
مِرا غرور بھی تیرا غلام کتنا تھا 

شکریہ تیرا کہ غم کا حوصلہ رہنے دیا

شکریہ تیرا، کہ غم کا حوصلہ رہنے دیا 
بے اثر کر دی دعا دستِ دعا رہنے دیا 
منصفی کا شورِ محشر گونجتا رہنے دیا 
سب دلیلوں کو سنا اور فیصلہ رہنے دیا 
اے خدا ممنون ہوں تیرا کہ میرے پھول میں 
تُو نے خوشبوئے ہوس، رنگِ وفا رہنے دیا 

ترے خیال کا شعلہ تھما تھما سا تھا

تِرے خیال کا شعلہ تھما تھما سا تھا 
تمام شہرِ تمنا، بجھا بجھا سا تھا 
نہ جانے موسمِ تلوار کس طرح گزرا 
مِرے لہو کا شجر تو جھکا جھکا سا تھا 
ہمیں بھی نیند نے تھپکی دی سو گئے تم بھی 
تمام حادثۂ شب، سنا سنا سا تھا 

Saturday, 10 December 2016

ترا خیال سر شام غم سنورتا ہوا

تِرا خیال سرِ شام غم سنورتا ہوا
بہت قریب سے گزرا سلام کرتا ہوا
جھجک رہا تھا وہ مجھ سے نظر ملاتے ہوئے
کہ میں بھی تھا اسی خاکے میں رنگ بھرتا ہوا
مسافتیں بھی بہت اور سخت راہوں سے
گزر گیا ہے وہ مجھ کو تلاش کرتا ہوا

کئی سراب ملے تشنگی کے رستے میں

کئی سراب ملے تشنگی کے رستے میں
رکاوٹیں ہیں بہت روشنی کےرستے میں
ہمارا آپ کا، سر پھوڑنا مقدر ہے
صنم کھڑے ہیں ابھی آدمی کے رستے میں
ہے اس کا ساتھ تو لب پر یہی دعا ہے کہ پھر
نہ آئے اور کوئی زندگی کے رستے میں

دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح

دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح
تم نے بھی چھوڑ دیا ہے مجھے دنیا کی طرح
چھوڑ کے جاؤ نہ یوں عہدِ گریزاں کی طرح
بن کے امید رہو، وعدۂ فردا کی طرح
تم ہوا ہو، بکھیرو مجھے ساحل، ساحل
موجِ مۓ ہو تو بہا دو مجھے دریا کی طرح

بدمست شوق شاہد کون و مکاں ہے آج

بد مستِ شوق شاہدِ کون و مکاں ہے آج 
شاید فضا میں جذب مۓ ارغواں ہے آج
جو پندِ عقل و ہوش ہے وہ رائیگاں ہے آج 
حرفِ جنوں کے آگے خِرد بے زباں ہے آج 
برقِ جفا بھی خوف سے گِرتی نہیں جہاں
اک ایسی شاخِ گل پہ مِرا آشیاں ہے آج

ہمیں ہیں وہ کہ جنہیں بام و در سے رغبت تھی

ہمیں ہیں وہ کہ جنہیں بام و در سے رغبت تھی
کہ در بدر بھی اگر تھے تو گھر سے رغبت تھی
ہم اپنے حالِ دگرگوں کی اب خبر کیا دیں
خبر یہی ہے کہ اک بے خبر سے رغبت تھی
جبیں پہ خاکِ ندامت سجائے پھرتے ہیں
کہ رقصِ شعلہ سرود شرر سے رغبت تھی

رشتہ گونگے سفر کا

رشتہ گونگے سفر کا

میں بھٹکا ہوں 
کتنے سرابوں میں صحراؤں میں
کئی کارواں مجھ سے آگے گئے
ان کے نقشِ پا ابھی مشتمل ہیں
ابھی دھول نے ان پہ چادر بچھائی نہیں ہے

Monday, 16 November 2015

انکار میں اقرار کی بات آ ہی گئی ہے

انکار میں اقرار کی بات آ ہی گئی ہے
باتوں میں غمِ یار کی بات آ ہی گئی ہے
آیا ہے کبھی ذکر اگر دار و رسن کا
گیسو و قدِ یار کی بات آ ہی گئی ہے
آرائشِ عالم پہ کبھی بحث جو ٹھہری
اس گیسوئے خمدار کی بات آ ہی گئی ہے

Sunday, 15 November 2015

اپنے رستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں

اپنے رِستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں
زندگی میری طرف دیکھ کہ میں آیا ہوں
تشنگی حد سے سوا تو نہ تھی میخواروں کی
جانے کیوں جام اٹھاتے ہوئے تھرایا ہوں
کام آئی ہے وہی زلف جو میری نہ ہوئی
وقت کی دھوپ میں جس وقت میں کمہلایا ہوں

Tuesday, 29 September 2015

یہ کیسے دور کا سقراط بن کے جینا تھا

یہ کیسے دور کا سقراط بن کے جینا تھا
بجائے زہر، مجھے گالیوں کو پینا تھا
وہاں تھی تندئ صہبا، یہاں شکستِ وجود
یہ سنگِ صبح ہے، وہ شب کا آبگینہ تھا
چھپی تھی موج کی بانہوں میں روحِ تشنہ لبی
چمکتی ریت میں ڈوبا ہوا سفینہ تھا

کوئی نگاہ و دل کا خریدار ہی نہ تھا

کوئی نگاہ و دل کا خریدار ہی نہ تھا
ہم نے دکاں سجائی تو بازار ہی نہ تھا
لے دے کے ایک وصل کی خیرات مانگ لی
جیسے کچھ اور شوق کو آزار ہی نہ تھا
نایاب تھے گہر ہی کی مانند خِشت و سنگ
یا اس نگر میں کوئی گنہ گار ہی نہ تھا