تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحان کرتے
کہیں چراغ جلاتے، کہیں دھواں کرتے
سفینہ ڈوب رہا تھا، تو کیوں نہ یاد آیا
تِری طلب، تِرے ارماں کو بادباں کرتے
ہوا تھی تیز، جلاتے رہے دلوں کے چراغ
کٹی ہے عمر، لہو اپنا رائیگاں کرتے
تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحان کرتے
کہیں چراغ جلاتے، کہیں دھواں کرتے
سفینہ ڈوب رہا تھا، تو کیوں نہ یاد آیا
تِری طلب، تِرے ارماں کو بادباں کرتے
ہوا تھی تیز، جلاتے رہے دلوں کے چراغ
کٹی ہے عمر، لہو اپنا رائیگاں کرتے
دنیا کا یہ اعزاز یہ انعام بہت ہے
مجھ پر تِرے اکرام کا الزام بہت ہے
اس عمر میں یہ موڑ اچانک یہ ملاقات
خوش گام ابھی گردش ایام بہت ہے
بجھتی ہوئی صبحیں ہوں کہ جلتی ہوئی راتیں
تجھ سے یہ ملاقات سرِ شام بہت ہے
اک گزارش ہے بس اتنا کیجیۓ
جب کبھی فرصت ہو آیا کیجیۓ
لوگ اس کا بھی غلط مطلب نہ لیں
اجنبیت سے نہ دیکھا کیجیۓ
خود کو اپنی آنکھ سے دیکھا تو ہے
اب مِری آنکھوں سے دیکھا کیجیۓ
زندگی کاوشِ باطل ہے مِرا ساتھ نہ چھوڑ
تو ہی اک عمر کا حاصل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
لوگ ملتے ہیں سر راہ گزر جاتے ہیں
تو ہی اک ہم سفر دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
تو نے سوچا ہے مجھے تو نے سنوارا ہے مجھے
تو مرا ذہن مرا دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ
اپنے کھوئے ہوئے لمحات کو پایا تھا کبھی
میں نے کچھ وقت تِرے ساتھ گزارا تھا کبھی
آپ کو میرے تعارف کی ضرورت کیا ہے
میں وہی ہوں کہ جسے آپ نے چاہا تھا کبھی
اب اگر اشک اُمنڈتے ہیں تو پی جاتا ہوں
حوصلہ آپ کے دامن نے بڑھایا تھا کبھی
دلوں کے رنگ عجب رابطہ ہے کتنی دیر
وہ آشنا ہے مگر آشنا ہے کتنی دیر
نئی ہوا ہے کریں مشعلِ ہوس روشن
کہ شمعِ درد چراغِ وفا ہے کتنی دیر
اب آرزو کو تِری بے صدا بھی ہونا ہے
تِرے فقیر کے لب پر دعا ہے کتنی دیر