رشتہ گونگے سفر کا
میں بھٹکا ہوں
کتنے سرابوں میں صحراؤں میں
کئی کارواں مجھ سے آگے گئے
ان کے نقشِ پا ابھی مشتمل ہیں
ابھی دھول نے ان پہ چادر بچھائی نہیں ہے
مجھ سے پیچھے
نئے کاروانوں کی گرد اڑ رہی ہے
کچھ جیالے جوان
تازہ دم، تیز رو
اور میں
وقت کی رہگزر کا وہ تنہا مسافر
جو ہر قافلے سے الگ
رہروؤں سے الگ
اجنبی سمت
یوں چل رہا ہے
کہ اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے
مظہر امام
No comments:
Post a Comment