Saturday, 10 December 2016

تیری آنکھوں نے جو مرنے کی سزا دی ہے مجھے

تیری آنکھوں نے جو مرنے کی سزا دی ہے مجھے
تیرے ہونٹوں نے تو جینے کی دعا دی ہے مجھے
میری اکھڑی ہوئی سانسوں کو ملا ہے ٹھہراؤ
تم نے پاس آ کے جو دامن کی ہوا دی ہے مجھے
اے نگاہِ غلط انداز! ذرا تُو ہی بتا
کون ہے جس نے محبت کی ادا دی ہے مجھے
لمس نے تیرے جگایا مِرے مردہ دل کو
شکریہ تیرا، جوانی کی فضا دی ہے مجھے
میرے جذبات مہکنے ہی رہیں گے پیہم
آپ نے زلفوں کی خوشبو جو سنگھا دی ہے مجھے
اس کو احسان کہوں تیرا کہ معراجِ وفا
دل میں جو بات چھپی تھی، وہ بتا دی ہے مجھے
تم نے پھیلا کے ہر ایک سمت تبسم کی بہار
آپ مہکے ہوئے پھولوں کی ردا دی ہے مجھے
جب بھی اٹھتے ہیں تِری سمت ہی اٹھتے ہیں قدم
جانے کس قسم کی یہ جنبشِ پا دی ہے مجھے
کچے زخموں سے مِرا جسم سجا کر صادؔق
میرے ماحول نے رنگین قبا دی ہے مجھے

صادق اندوری

No comments:

Post a Comment