تیری آنکھوں نے جو مرنے کی سزا دی ہے مجھے
تیرے ہونٹوں نے تو جینے کی دعا دی ہے مجھے
میری اکھڑی ہوئی سانسوں کو ملا ہے ٹھہراؤ
تم نے پاس آ کے جو دامن کی ہوا دی ہے مجھے
اے نگاہِ غلط انداز! ذرا تُو ہی بتا
لمس نے تیرے جگایا مِرے مردہ دل کو
شکریہ تیرا، جوانی کی فضا دی ہے مجھے
میرے جذبات مہکنے ہی رہیں گے پیہم
آپ نے زلفوں کی خوشبو جو سنگھا دی ہے مجھے
اس کو احسان کہوں تیرا کہ معراجِ وفا
دل میں جو بات چھپی تھی، وہ بتا دی ہے مجھے
تم نے پھیلا کے ہر ایک سمت تبسم کی بہار
آپ مہکے ہوئے پھولوں کی ردا دی ہے مجھے
جب بھی اٹھتے ہیں تِری سمت ہی اٹھتے ہیں قدم
جانے کس قسم کی یہ جنبشِ پا دی ہے مجھے
کچے زخموں سے مِرا جسم سجا کر صادؔق
میرے ماحول نے رنگین قبا دی ہے مجھے
صادق اندوری
No comments:
Post a Comment