مٹے کچھ ایسے کہ موجود خاک و خس بھی نہیں
کہاں نشانِ نشیمن، کہیں قفس بھی نہیں
تلاش کرنا ہے خود ہم کو جادۂ منزل
کہ راہبر کوئی اب اپنے پیش و پس بھی نہیں
یہ روز روز کے طعنے، یہ صبح و شام کے طنز
ہر اک نفس پہ مسلط ہے تلخئ ماحول
جئیں تو کیسے جئیں زندگی میں رس بھی نہیں
تباہ کر دے جو پاکیزگی کے دامن کو
بلند اتنا مگر شعلۂ ہوس بھی نہیں
وہ اس مقام سے صادؔق پکارتے ہیں ہمیں
جہاں ہمارے تخیل کی دسترس بھی نہیں
صادق اندوری
No comments:
Post a Comment