نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق
ابھی دل پر تِرے اُترا کہاں عشق
ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں
ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق
زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے
تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق
نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق
ابھی دل پر تِرے اُترا کہاں عشق
ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں
ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق
زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے
تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق
ہجوم
قلم سے
پپوٹوں کے بستہ کواڑوں پہ آنکھیں بنانے کی عادت
نہیں جائے گی
قیامت ہی آئے گی، بینائی پھر بھی نہیں آئے گی
فیصل عظیم
انتشار
آنکھ کے اندر
آنکھ کے باہر
اور مبہم گہری سرحد پر
انتشار
فیصل عظیم
بند دروازے
اوپر جاتی آخری سیڑھی
سب دروازے
بند، مقفل
کس دروازے پر دستک دوں؟
دستک دوں یا واپس پلٹوں؟
آخر کب تک؟
آقا
غلاموں کی صفوں سے آ رہی ہیں کیسی آوازیں
کہ جیسے آج ہر اک تختِ شاہی کو گرا دیں گے
کہ جیسے ہر جلالِ بادشاہی کو جلا دیں گے
پریشاں ہو گئے آقا
ابھی تو کچھ دِیوں کی روشنی ہے آپ کی زد میں
ابھی تو کچھ اضافہ اور ہو گا آپ کے قد میں
کہاں دورِ سرمایہ داری گیا
کہاں دورِ سرمایہ داری گیا؟
تماشہ گیا یا مداری گیا؟
ابھی تو وہی سیم و زر تن پہ ہے
تماشہ ابھی اپنے جوبن پہ ہے
نظر تو حقیقت میں خیرہ ہے اب
دہن سب کا حیرت نے چیرا ہے اب