Showing posts with label فیصل عظیم. Show all posts
Showing posts with label فیصل عظیم. Show all posts

Sunday, 15 August 2021

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق

 نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق

ابھی دل پر تِرے اُترا کہاں عشق

ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں

ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق

زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے

تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق

Sunday, 6 December 2020

قیامت ہی آئے گی بینائی پھر بھی نہیں آئے گی

 ہجوم


قلم سے

پپوٹوں کے بستہ کواڑوں پہ آنکھیں بنانے کی عادت

نہیں جائے گی

قیامت ہی آئے گی، بینائی پھر بھی نہیں آئے گی


فیصل عظیم

Saturday, 5 December 2020

انتشار

 انتشار


آنکھ کے اندر

آنکھ کے باہر

اور مبہم گہری سرحد پر

انتشار


فیصل عظیم

Friday, 4 December 2020

اوپر جاتی آخری سیڑھی

 بند دروازے


اوپر جاتی آخری سیڑھی

سب دروازے

بند، مقفل

کس دروازے پر دستک دوں؟

دستک دوں یا واپس پلٹوں؟

آخر کب تک؟

Thursday, 3 December 2020

پریشاں ہو گئے آقا

 آقا


غلاموں کی صفوں سے آ رہی ہیں کیسی آوازیں

کہ جیسے آج ہر اک تختِ شاہی کو گرا دیں گے

کہ جیسے ہر جلالِ بادشاہی کو جلا دیں گے

پریشاں ہو گئے آقا

ابھی تو کچھ دِیوں کی روشنی ہے آپ کی زد میں

ابھی تو کچھ اضافہ اور ہو گا آپ کے قد میں

کہاں دور سرمایہ داری گیا

 کہاں دورِ سرمایہ داری گیا


کہاں دورِ سرمایہ داری گیا؟

تماشہ گیا یا مداری گیا؟

ابھی تو وہی سیم و زر تن پہ ہے

تماشہ ابھی اپنے جوبن پہ ہے

نظر تو حقیقت میں خیرہ ہے اب

دہن سب کا حیرت نے چیرا ہے اب

Tuesday, 8 September 2020

مجھ پہ ڈالو نہ ایسے جھکا کر نظر

مجھ پہ ڈالو نہ ایسے جھکا کر نظر
میرے بس میں نہیں میرا دل اس قدر
سب نے یوں مل کے گھیرا خدا کی پنہ
رنگ، عارض، لب و زلف، نظریں، کمر
اور کس زاویے سے لگاؤ گے چوٹ
اب ہٹا بھی چکو اپنی ترچھی نظر

Monday, 7 September 2020

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں
میں تو چپ ہوں اب مِری تنہائیاں باتیں کریں
اتنی دیواروں میں اک دیوار ہی سمجھا مجھے
آ کے میرے سائے میں پرچھائیاں باتیں کریں
روکنا بھی ناروا ہے، ٹوکنا بھی ناگوار
کان تب ہوتے ہیں جب رسوائیاں باتیں کریں

Sunday, 6 September 2020

جیون ساتھی

جیون ساتھی

آنکھ سے آنسو بہا کر
خوف کے عالم میں
جیون کے کئی لمحے بِتا کر
اور لہو اپنا ہی پی پی کر
بہت کڑھ کڑھ کے جی کر بھی

ایک جزیرہ تیرے گھر کا ایک جزیرہ میرے گھر کا

ایک جزیرہ تیرے گھر کا
ایک جزیرہ میرے گھر کا
ایک جزیرہ  بازاروں کا
ایک جزیرہ وہ ہے جس پر خود کو بیچ کے آ جاتا ہوں
ایک جزیرہ خوشیوں کا ہے
ایک جزیرے پر مسجد ہے

Friday, 4 September 2020

میری آنکھوں سے دیکھو

میری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وُسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
کہیں پر، دور، اک نُقطہ سا روشن تھا
کہ جس میں غور سے دیکھیں تو اک ذرہ دکھائی دے

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا

جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا
وہ بت کیوں صبح کو ٹوٹا ہوا تھا
اگر سچ کی حقیقت اب کھلی ہے
تو جو اَب تک نظر آیا تھا، کیا تھا؟
اگر یہ تلخیوں کی ابتداء ہے
تو اب تک کون سا امرت پیا تھا

Friday, 9 October 2015

ڈال رکھا ہے یہاں سانپوں نے ڈیرا کیا کروں

ڈال رکھا ہے یہاں سانپوں نے ڈیرا، کیا کروں
بس گیا ہے رُوح کے اندر سپیرا، کیا کروں
شہر میں لے کر تو میں نکلا ہوں اِک روشن دِیا
ہے مگر میرے تعاقب میں اَندھیرا، کیا کروں
اب نگاہوں میں کوئی چہرہ سماتا ہی نہیں
خواب کرتے ہیں اِن آنکھوں میں بسیرا، کیا کروں

تبدیلی سے پہلے کا یہ موسم دیکھا بھالا ہے

تبدیلی سے پہلے کا یہ موسم دیکھا بھالا ہے
حبس علامت ہے اس کی، طوفان، جو آنے والا ہے
اپنے گِرد بچھا ہے ظلمت کی سازِش کا جال، مگر
ہاتھوں میں جب آ جائے تو یہ مکڑی کا جالا ہے
دولت اور طاقت کے نشے میں قدروں کی پامالی
ہم نے یہی منظر دیکھا ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے

کاغذوں پر لکھ دیا ہر ایک لمحے کا عذاب

کاغذوں پر لکھ دیا ہر ایک لمحے کا عذاب
اپنے ماتھے کی لکیریں، اپنی آنکھوں کے سراب
ہر گزرتا پَل مجھے ڈستا ہے ناگن کی طرح
کوئی وحشت کی کہانی ہے کہ یادوں کی کتاب
مصلحت نے عشقِ سادہ کو معمہ کر دیا
اس کا اِک واضح اشارہ، میرا پیچیدہ جواب

کبھی قطرہ کبھی دریا کبھی غرقاب ہوتا ہوں

کبھی قطرہ، کبھی دریا، کبھی غرقاب ہوتا ہوں
کبھی اپنے لیے بھی کس قدر نایاب ہوتا ہوں
میں صحرا ہوں مگر تُو تو سمندر ہو کے پیاسا ہے
میں اپنے ہی سرابوں سے بہت سیراب ہوتا ہوں
ابھی تو دستِ ساقی میں چھلکتا جام ہوں گویا
اگر میں ہاتھ سے چھوٹوں تو پھر زہراب ہوتا ہوں