Thursday, 3 December 2020

پریشاں ہو گئے آقا

 آقا


غلاموں کی صفوں سے آ رہی ہیں کیسی آوازیں

کہ جیسے آج ہر اک تختِ شاہی کو گرا دیں گے

کہ جیسے ہر جلالِ بادشاہی کو جلا دیں گے

پریشاں ہو گئے آقا

ابھی تو کچھ دِیوں کی روشنی ہے آپ کی زد میں

ابھی تو کچھ اضافہ اور ہو گا آپ کے قد میں

ابھی تو کچھ اندھیرا اور بڑھنا ہے شبستاں میں

ابھی تازہ لہو کچھ اور بہنا ہے گلستاں میں

غنیمت ہے، ابھی تو تخت کے پائے سلامت ہیں

مِرے آقا! ابھی دربار کے سائے سلامت ہیں


پریشاں ہو گئے آقا! ابھی تو رات باقی ہے

ابھی تو آپ جیتے ہیں، ابھی تو مات باقی ہے

ابھی تو زرد موسم ہے، ابھی برسات باقی ہے

ابھی کچھ وقت باقی ہے طلوعِ صبحِ امکاں میں

ابھی کچھ اور زنجیریں صدائیں دیں گی زنداں میں

ابھی کچھ اور سر، جو خم نہیں ہوں گے، قلم ہوں گے

ابھی کچھ اور ہاتھوں میں بغاوت کے علم ہوں گے

ابھی کچھ اور افسانے اذیّت کے رقم ہوں گے

ابھی راہِ بقا میں اور کچھ تازہ ستم ہوں گے

پھر اس کے بعد تم ہو گے، پھر اس کے بعد ہم ہوں گے

پریشاں ہو گئے آقا


فیصل عظیم

No comments:

Post a Comment