Friday, 4 December 2020

نشیلی اس کی صبحیں بہکی بہکی شام ہوتی ہے

دیار دکن


 نہ پُوچھو اس نگر کی کیفیت کیا عام ہوتی ہے

نشیلی اس کی صُبحیں بہکی بہکی شام ہوتی ہے

ہر اک ذرے کے دل سے پیار کی گنگا اُبلتی ہے

وفا جیسے دکن والوں کے قالب ہی میں پلتی ہے

ہیں ایسے میزباں، مہماں کو اپنے اپنا گھر دے دیں

ہیں ایسے دوست ہنس کر دوستی میں اپنا سر دے دیں

ہیں کچھ اس کے دوستوں کے جنت کے نظارے

چلیں بس تو یہیں بس جائیں آ کر دیوتا سارے


کنول پرشاد کنول

No comments:

Post a Comment