اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی
آنکھیں ہیں ہماری نم کچھ اور طرح سے بھی
شعلہ بھی نہیں اُٹھتا، کاجل بھی نہیں بنتا
جلتا ہے کسی کا غم کچھ اور طرح سے بھی
ہر شاخ سُلگتی ہے،۔ ہر پُھول دہکتا ہے
گرتی ہے کبھی شبنم کچھ اور طرح سے بھی
اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی
آنکھیں ہیں ہماری نم کچھ اور طرح سے بھی
شعلہ بھی نہیں اُٹھتا، کاجل بھی نہیں بنتا
جلتا ہے کسی کا غم کچھ اور طرح سے بھی
ہر شاخ سُلگتی ہے،۔ ہر پُھول دہکتا ہے
گرتی ہے کبھی شبنم کچھ اور طرح سے بھی
چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں
ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں
ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں
ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
ڈھونڈا ہے ہر جگہ پہ کہیں پر نہیں ملا
غم سے تو گہرا کوئی سمندر نہیں ملا
یہ تجربہ ہوا ہے محبت کی راہ میں
کھو کر ملا جو ہم کو وہ پا کر نہیں ملا
دہلیز اپنی چھوڑ دی جس نے بھی ایک بار
دیوار و در ہی اس کو ملے گھر نہیں ملا
پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے
جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا
لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے
دل میں جو محبت کی روشنی نہیں ہوتی
اتنی خوب صورت یہ زندگی نہیں ہوتی
دوست پہ کرم کرنا اور حساب بھی رکھنا
کاروبار ہوتا ہے،۔ دوستی نہیں ہوتی
خود چراغ بن کے جل وقت کے اندھیرے میں
بھیک کے اجالوں سے روشنی نہیں ہوتی