Showing posts with label ہستی مل. Show all posts
Showing posts with label ہستی مل. Show all posts

Friday, 13 August 2021

اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی

 اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی

آنکھیں ہیں ہماری نم کچھ اور طرح سے بھی

شعلہ بھی نہیں اُٹھتا، کاجل بھی نہیں بنتا

جلتا ہے کسی کا غم کچھ اور طرح سے بھی

ہر شاخ سُلگتی ہے،۔ ہر پُھول دہکتا ہے

گرتی ہے کبھی شبنم کچھ اور طرح سے بھی

Friday, 30 July 2021

چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں

 چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں

ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں

ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں

ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں

ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں

ڈھونڈا ہے ہر جگہ پہ کہیں پر نہیں ملا

 ڈھونڈا ہے ہر جگہ پہ کہیں پر نہیں ملا

غم سے تو گہرا کوئی سمندر نہیں ملا

یہ تجربہ ہوا ہے محبت کی راہ میں

کھو کر ملا جو ہم کو وہ پا کر نہیں ملا

دہلیز اپنی چھوڑ دی جس نے بھی ایک بار

دیوار و در ہی اس کو ملے گھر نہیں ملا

Thursday, 29 July 2021

پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے

 پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے

نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے

جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا

لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے

گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری

لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے

Thursday, 29 April 2021

دل میں جو محبت کی روشنی نہیں ہوتی

 دل میں جو محبت کی روشنی نہیں ہوتی 

اتنی خوب صورت یہ زندگی نہیں ہوتی 

دوست پہ کرم کرنا اور حساب بھی رکھنا 

کاروبار ہوتا ہے،۔ دوستی نہیں ہوتی 

خود چراغ بن کے جل وقت کے اندھیرے میں 

بھیک کے اجالوں سے روشنی نہیں ہوتی