Friday, 13 August 2021

اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی

 اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی

آنکھیں ہیں ہماری نم کچھ اور طرح سے بھی

شعلہ بھی نہیں اُٹھتا، کاجل بھی نہیں بنتا

جلتا ہے کسی کا غم کچھ اور طرح سے بھی

ہر شاخ سُلگتی ہے،۔ ہر پُھول دہکتا ہے

گرتی ہے کبھی شبنم کچھ اور طرح سے بھی

منزل نے دئیے طعنے رستے بھی ہنسے لیکن

چلتے رہے اکثر ہم کچھ اور طرح سے بھی

دامن کہیں پھیلا تو محسوس ہوا یارو

قد ہوتا ہے اپنا کم کچھ اور طرح سے بھی

اس نے ہی نہیں دیکھا یہ بات الگ، ورنہ

اس بار سجے تھے ہم کچھ اور طرح سے بھی


ہستی مل

No comments:

Post a Comment