Friday, 13 August 2021

تمہاری سنتا رہوں اور دلیل مل جائے

 تمہاری سنتا رہوں اور دلیل مل جائے

کہ جیسے چاند کو رستے میں جھیل مل جائے

میں سوچتا ہوں کسی آسماں پہ بیٹھا ہوا

زمین پر بھی کوئی مثلِ نیل مل جائے

کسی کو باغ میں سبزہ نظر نہیں آئے

کسی کو دشت میں کوئی فصیل مل جائے

اک ایسی رات جو تاعمر مجھ پہ طاری ہو

اک ایسی رات مجھے گر طویل مل جائے

میں خواب گاہ میں جاؤں تجھے تلاش کروں

تلاش کرتے ہوئے سنگِ میل مل جائے

نہ جانے کیسی علامت ہے سوچ لے جنگل

شجر پہ لکھا ہوا ہے کہ؛ چیل مل جائے

کنارِ آب مجھے مل گئیں تِری آنکھیں

اب ان کے بیچ کہیں سلسبیل مل جائے


وصاف باسط

No comments:

Post a Comment