تمہاری سنتا رہوں اور دلیل مل جائے
کہ جیسے چاند کو رستے میں جھیل مل جائے
میں سوچتا ہوں کسی آسماں پہ بیٹھا ہوا
زمین پر بھی کوئی مثلِ نیل مل جائے
کسی کو باغ میں سبزہ نظر نہیں آئے
کسی کو دشت میں کوئی فصیل مل جائے
اک ایسی رات جو تاعمر مجھ پہ طاری ہو
اک ایسی رات مجھے گر طویل مل جائے
میں خواب گاہ میں جاؤں تجھے تلاش کروں
تلاش کرتے ہوئے سنگِ میل مل جائے
نہ جانے کیسی علامت ہے سوچ لے جنگل
شجر پہ لکھا ہوا ہے کہ؛ چیل مل جائے
کنارِ آب مجھے مل گئیں تِری آنکھیں
اب ان کے بیچ کہیں سلسبیل مل جائے
وصاف باسط
No comments:
Post a Comment