آنکھ سے جو نمی نہیں جاتی
غم کی شدت سہی نہیں جاتی
اک نہ اک بات ایسی ہوتی ہے
جو کسی سے کہی نہیں جاتی
میری تو جان پر بنی ہے اب
اور تیری دل لگی نہیں جاتی
تُو مِرے روبرو نہ ہو جب تک
دل کی حالت کہی نہیں جاتی
گو ہے اب میرے چار سو رونق
دل کی بے رونقی نہیں جاتی
وقت گرچہ گزرتا جاتا ہے
ہجر کی اک گھڑی نہیں جاتی
ہم کو پردیس میں عجب ہے پیاس
دیس کی تشنگی نہیں جاتی
جھوٹ چہرے پہ درج ہے تیرے
داستاں تک گھڑی نہیں جاتی
یوں میسرمجھےسبھی کچھ ہے
ایک تیری کمی نہیں جاتی
یہ جو تلخی ہے اس کے لہجے میں
شمسہ مجھ سے سہی نہیں جاتی
شمسہ نجم
No comments:
Post a Comment