ایک پہاڑی لڑکی
پہلی بار محبت کا شکار ہوئی
اس نے صبح سویرے کھڑکی کھولی
اپنا سر باہر نکالا اور چلائی
اف ہر طرف پھول ہی پھول ہیں
ان سے لدے پیڑ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں
ایک پہاڑی لڑکی
پہلی بار محبت کا شکار ہوئی
اس نے صبح سویرے کھڑکی کھولی
اپنا سر باہر نکالا اور چلائی
اف ہر طرف پھول ہی پھول ہیں
ان سے لدے پیڑ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں
اے عورت
اگر ایک ہزار لوگ تمہیں پیار کرتے ہیں تو رسول حمزہ بھی ان میں ایک ہو گا
اگر سو لوگ تمہیں پیار کرتے ہیں تو ان میں رسول کو بھی شامل کر لو
اگر دس لوگ تمہیں پیار کرتے ہیں، تو ان دس میں رسول حمزہ ضرور ہو گا
اے عورت! اگر پوری دنیا میں صرف ایک شخص تمہیں پیار کرتا ہے تو وہ مرے سوا کون ہو سکتا ہے
اور اگر تم تنہا اور اداس ہو اور کوئی تمہیں پیار نہیں کرتا تو سمجھ لینا کہیں بلند پہاڑوں میں رسول حمزہ مر چکا ہے
رسول حمزہ توف
اردو ترجمہ؛ مستنصر حسین تارڑ
بند کرو ڈینگیں مارنا
بند کرو ڈینگیں مارنا
کہ آدمی، جو وقت ہی کا دوسرا نام ہیں
کچھ بھی نہیں ہیں، تمہارے سائے کے سوا
اور یہ کہ ان کا شکوہ
دراصل عکس ہے، تمہارا ہی
یہ آدمی ہی ہیں، جو دیتے ہیں اپنے عہد کو
نسخۂ الفت میرا
گر کسی طور ہر اک الفتِ جاناں کا خیال
شعر میں ڈھل کے ثنائے رخِ جاناں نہ بنے
پھر تو یوں ہو کہ مِرے شعر و سخن کا دفتر
طول میں طولِ شبِ ہجر کا افسانہ بنے
ہے بہت تشنہ مگر نسخۂ الفت میرا
آرزو
مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں
مگر آرزو ہے کہ جب قضا
مجھے بزمِ دہر سے لے چلے
تو پھر ایک بار یہ اذن دے
کہ لحد سے لوٹ کے آ سکوں
تِرے در پہ آ کے صدا کروں
تیرگی جال ہے اور بھالا ہے نور
اک شکاری ہے دن، اک شکاری ہے رات
جگ سمندر ہے جس میں کنارے سے دور
مچھلیوں کی طرح ابنِ آدم کی ذات
جگ سمندر ہے،ساحل پہ ہیں ماہی گیر
جال تھامے کوئی، کوئی بھالا لیے
میری باری کب آئے گی کیا جانیے
میں تیرے سپنے دیکھوں
برکھا برسے چھت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں
برف گرے پربت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں
صبح کی نیل پری، میں تیرے سپنے دیکھوں
کوئل دھوم مچائے، میں تیرے سپنے دیکھوں
آئے اور اڑ جائے، میں تیرے سپنے دیکھوں
باغوں میں پتے مہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں
سالگرہ
شاعر کا جشنِ سالگرہ ہے، شراب لا
منصب، خطاب، رتبہ انہیں کیا نہیں ملا
بس نقص ہے تو اتنا کہ ممدوح نے کوئی
مصرع کسی کتاب کے شایاں نہیں لکھا
رسول حمزہ توف
اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض
بھائی
آج سے بارہ برس پہلے بڑا بھائی مِرا
سٹالن گراڈ کی جنگاہ میں کام آیا تھا
میری ماں اب بھی لیے پھرتی ہے پہلو میں یہ غم
جب سے اب تک ہے وہ تن پہ ردائے ماتم
اور اس دکھ سے میری آنکھ کا گوشہ تر ہے
اب میری عمر بڑے بھائی سے کچھ بڑھ کر ہے
بہ نوک شمشیر
میرے آباء کہ تھے نامحرمِ طوق و زنجیر
وہ مضامیں جو ادا کرتا ہے اب میرا قلم
نوکِ شمشیر پہ لکھتے تھے بہ نوکِ شمشیر
روشنائی سے جو میں کرتا ہوں کاغذ پہ رقم
سنگ و صحرا پہ وہ کرتے تھے لہو سے تحریر
داغستانی خاتون اور اس کا شاعر بیٹا
اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا
اس کی ہر بات میں سمجھتی تھی
اب وہ شاعر بنا ہے نام خدا
لیکن افسوس کوئی بات اس کی
مِرے پلے ذرا نہیں پڑتی
رسول حمزہ توف
اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض