Saturday, 19 September 2020

اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا

داغستانی خاتون اور اس کا شاعر بیٹا


اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا

اس کی ہر بات میں سمجھتی تھی

اب وہ شاعر بنا ہے نام خدا

لیکن افسوس کوئی بات اس کی

مِرے پلے ذرا نہیں پڑتی


رسول حمزہ توف

اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض 

No comments:

Post a Comment