Showing posts with label علی شیدا. Show all posts
Showing posts with label علی شیدا. Show all posts

Thursday, 9 November 2023

میرا رونا مری ہنسی تنہا

 میرا رونا مِری ہنسی تنہا

زندگی ہے گزر رہی تنہا

شہرِ اُلفت بسانے والا آج

ہے بھٹکتا گلی گلی تنہا

بھیڑ میں اس قدر ہے تنہائی

موت تنہا ہے، زندگی تنہا 

Wednesday, 12 July 2023

مقام نور ازل ہے زمان رحمت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مقامِ نورِ ازل ہے زمانِ رحمت ہے

حضورؐ آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے

سخن وحی سے جڑا ہے ادا ہے خوشبو کی

حریمِ غنچہ دہن میں زبانِ رحمت ہے

مہکتی سانس میں زمزم بھری طراوت ہے

سبیلِ پیاس کا ضامن دہانِ رحمت ہے

Wednesday, 2 February 2022

وہ آئے گا کہ آنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

 وہ آئے گا کہ آنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

بھرم ہے ٹوٹ جانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

دِیا محفوظ کر لو تاک میں ظالم ہوا بیٹھی

کہ اپنا گھر جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

ذرا محتاط رہنا آہ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے

کسی کا دل دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

Wednesday, 24 November 2021

یہی ہے آرزوئے دل دیار مصطفیٰ دیکھوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہی ہے آرزوئے دل دیارِ مصطفیٰؐ دیکھوں

فراغِ سبز گنبد میں قیامِ مجتبیِٰ دیکھوں

شعورِ چشم لائی ہے اٹھا کر ہحرِ ہجراں سے

درِ ایجاب پر پُر نم متاعِ التجا دیکھوں

اسے رستہ سُجھائیں گی فضائیں شہرِ آقاؐ کی

کہاں تک آسمانوں میں بھٹکتی ہے دعا دیکھوں

Sunday, 19 September 2021

بند مٹھی میں چال رکھتا ہوں

 تاش پتے کمال رکھتا ہوں

بند مٹھی میں چال رکھتا ہوں

دشت ماضی میں گھومتے رہنا

پا بہ زنجیرِ حال رکھتا ہوں

وہ کہاں کے یقین تک آئے

میں کہ جس کا خیال رکھتا ہوں

Tuesday, 7 September 2021

اپنے ہی دشت خاک میں بکھرا ہوا تھا میں

 اپنے ہی دشتِ خاک میں بکھرا ہوا تھا میں

پانی، ہوا سے، آگ سے گزرا ہوا تھا میں

منظر تمام آنکھ کی جُنبش پہ تھے مِری

گردش میں کائنات تھی ٹھہرا ہوا تھا میں

اپنی سیاہ دُھند کے سب دائرے لیے

اک روشنی کے غار میں پھیلا ہوا تھا میں

Monday, 6 September 2021

دھوپ کو پہن لیا آفتاب کی طرح

 دھوپ کو پہن لیا آفتاب کی طرح

اوڑھ لی ہے چاندنی ماہتاب کی طرح

ایک لمحہ وصل کا یاد سے نکال کر

آنکھ میں چُھپا لیا ایک خواب کی طرح

آئینوں کو توڑ کر عکس عکس جوڑ کر

سامنے ہے رکھ دیا انتخاب کی طرح

بدل نہ گھر دئیے ہوتے کہانیاں ہوتیں

 بدل نہ گھر دئیے ہوتے، کہانیاں ہوتیں

کہانیوں کے گھروں میں بھی نانیاں ہوتیں

شعور آنکھ نے سارے وہ زخم دھو ڈالے

ہمارے پاس گلابی نشانیاں ہوتیں

چراغِ وصل بجھاتی نہ ہجر کی آندھی

ہمارے حُجرے میں بھی ضو فشانیاں ہوتیں

Wednesday, 24 March 2021

چراغ وصل بجھاتی نہ ہجر کی آندھی

 چراغِ وصل بجھاتی نہ ہجر کی آندھی

ہمارے حُجرے میں بھی ضو فشانیاں ہوتیں

شعورعشق سے چھٹتی وفا کی دھند نہ گر

درونِ شوق وہی خوش گمانیاں ہوتیں

جہادِ دشت نوردی فقط ہے کار زیاں

کمائی ہاتھ میں دو اک نشانیاں ہوتیں

Sunday, 21 March 2021

آئنے میں روز اک تصویر سے ڈرتے رہے

 آئینے میں روز اک تصویر سے ڈرتے رہے

آنکھ میں تنکا لیے شہتیر سے ڈرتے رہے

رقص کی خاطر اسے سازِ سلاسل کر دیا

کون کہتا ہے کہ ہم زنجیر سے ڈرتے رہے

ہاتھ کی جُنبش میں اپنے بھی ہُنر تھے کوہکن

جانِ شیریں شومئی تقدیر سےڈرتے رہے