میرا رونا مِری ہنسی تنہا
زندگی ہے گزر رہی تنہا
شہرِ اُلفت بسانے والا آج
ہے بھٹکتا گلی گلی تنہا
بھیڑ میں اس قدر ہے تنہائی
موت تنہا ہے، زندگی تنہا
میرا رونا مِری ہنسی تنہا
زندگی ہے گزر رہی تنہا
شہرِ اُلفت بسانے والا آج
ہے بھٹکتا گلی گلی تنہا
بھیڑ میں اس قدر ہے تنہائی
موت تنہا ہے، زندگی تنہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مقامِ نورِ ازل ہے زمانِ رحمت ہے
حضورؐ آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے
سخن وحی سے جڑا ہے ادا ہے خوشبو کی
حریمِ غنچہ دہن میں زبانِ رحمت ہے
مہکتی سانس میں زمزم بھری طراوت ہے
سبیلِ پیاس کا ضامن دہانِ رحمت ہے
وہ آئے گا کہ آنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
بھرم ہے ٹوٹ جانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
دِیا محفوظ کر لو تاک میں ظالم ہوا بیٹھی
کہ اپنا گھر جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
ذرا محتاط رہنا آہ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے
کسی کا دل دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہی ہے آرزوئے دل دیارِ مصطفیٰؐ دیکھوں
فراغِ سبز گنبد میں قیامِ مجتبیِٰ دیکھوں
شعورِ چشم لائی ہے اٹھا کر ہحرِ ہجراں سے
درِ ایجاب پر پُر نم متاعِ التجا دیکھوں
اسے رستہ سُجھائیں گی فضائیں شہرِ آقاؐ کی
کہاں تک آسمانوں میں بھٹکتی ہے دعا دیکھوں
تاش پتے کمال رکھتا ہوں
بند مٹھی میں چال رکھتا ہوں
دشت ماضی میں گھومتے رہنا
پا بہ زنجیرِ حال رکھتا ہوں
وہ کہاں کے یقین تک آئے
میں کہ جس کا خیال رکھتا ہوں
اپنے ہی دشتِ خاک میں بکھرا ہوا تھا میں
پانی، ہوا سے، آگ سے گزرا ہوا تھا میں
منظر تمام آنکھ کی جُنبش پہ تھے مِری
گردش میں کائنات تھی ٹھہرا ہوا تھا میں
اپنی سیاہ دُھند کے سب دائرے لیے
اک روشنی کے غار میں پھیلا ہوا تھا میں
دھوپ کو پہن لیا آفتاب کی طرح
اوڑھ لی ہے چاندنی ماہتاب کی طرح
ایک لمحہ وصل کا یاد سے نکال کر
آنکھ میں چُھپا لیا ایک خواب کی طرح
آئینوں کو توڑ کر عکس عکس جوڑ کر
سامنے ہے رکھ دیا انتخاب کی طرح
بدل نہ گھر دئیے ہوتے، کہانیاں ہوتیں
کہانیوں کے گھروں میں بھی نانیاں ہوتیں
شعور آنکھ نے سارے وہ زخم دھو ڈالے
ہمارے پاس گلابی نشانیاں ہوتیں
چراغِ وصل بجھاتی نہ ہجر کی آندھی
ہمارے حُجرے میں بھی ضو فشانیاں ہوتیں
چراغِ وصل بجھاتی نہ ہجر کی آندھی
ہمارے حُجرے میں بھی ضو فشانیاں ہوتیں
شعورعشق سے چھٹتی وفا کی دھند نہ گر
درونِ شوق وہی خوش گمانیاں ہوتیں
جہادِ دشت نوردی فقط ہے کار زیاں
کمائی ہاتھ میں دو اک نشانیاں ہوتیں
آئینے میں روز اک تصویر سے ڈرتے رہے
آنکھ میں تنکا لیے شہتیر سے ڈرتے رہے
رقص کی خاطر اسے سازِ سلاسل کر دیا
کون کہتا ہے کہ ہم زنجیر سے ڈرتے رہے
ہاتھ کی جُنبش میں اپنے بھی ہُنر تھے کوہکن
جانِ شیریں شومئی تقدیر سےڈرتے رہے