بدل نہ گھر دئیے ہوتے، کہانیاں ہوتیں
کہانیوں کے گھروں میں بھی نانیاں ہوتیں
شعور آنکھ نے سارے وہ زخم دھو ڈالے
ہمارے پاس گلابی نشانیاں ہوتیں
چراغِ وصل بجھاتی نہ ہجر کی آندھی
ہمارے حُجرے میں بھی ضو فشانیاں ہوتیں
شعورعشق سے چھٹتی وفا کی دھند نہ گر
درونِ شوق وہی خوش گمانیاں ہوتیں
جہادِ دشت نوردی فقط ہے کارِ زیاں
کمائی ہاتھ میں دو اک نشانیاں ہوتیں
غزل میں مرچ مسالا جو ڈالتے شیدا
تمہارے لہجے میں بھی لن ترانیاں ہوتیں
علی شیدا
No comments:
Post a Comment