ہم سے دستور محبت کے نبھائے نہ گئے
ایسے اجڑے کہ کبھی پھر سے بسائے نہ گئے
زندگی بیت گئی ہجر کا غم سہتے ہوئے
زائچے ہم سے رفاقت کے بنائے نہ گئے
ہم نے دنیا کے ہر اک زخم کو پوشیدہ رکھا
زخم جو تجھ سے ملے ہم سے چھپائے نہ گئے
چند ساعت کا ملن ایک چُبھن بن کے رہا
لمحے گزرے جو تِرے ساتھ بھلائے نہ گئے
بے رُخی سے تِری خاموش خموشی سے ہوئے
جو دیے تیز ہواؤں سے بجھائے نہ گئے
شمس طوفان بہت آئے تھے اس دل میں مگر
ان کے قدموں کے نشانات مٹائے نہ گئے
شمس بلتستانی
No comments:
Post a Comment