Monday, 6 September 2021

ہم سے دستور محبت کے نبھائے نہ گئے

 ہم سے دستور محبت کے نبھائے نہ گئے 

ایسے اجڑے کہ کبھی پھر سے بسائے نہ گئے 

زندگی بیت گئی ہجر کا غم سہتے ہوئے 

زائچے ہم سے رفاقت کے بنائے نہ گئے 

ہم نے دنیا کے ہر اک زخم کو پوشیدہ رکھا 

زخم جو تجھ سے ملے ہم سے چھپائے نہ گئے

چند ساعت کا ملن ایک چُبھن بن کے رہا

لمحے گزرے جو تِرے ساتھ بھلائے نہ گئے

بے رُخی سے تِری خاموش خموشی سے ہوئے

جو دیے تیز ہواؤں سے بجھائے نہ گئے

شمس طوفان بہت آئے تھے اس دل میں مگر

ان کے قدموں کے نشانات مٹائے نہ گئے


شمس بلتستانی

No comments:

Post a Comment