Showing posts with label آصف محمود. Show all posts
Showing posts with label آصف محمود. Show all posts

Thursday, 27 May 2021

بچھڑ گیا ہے تو اب ملال کیا کرنا

 ملال 


بچھڑ گیا ہے تو اب ملال کیا کرنا

کہ گئے ہوئے کو آواز دے کر کیا کرنا

ستم ظریفی ہے یہ اس کی تو سہ لے اسے

پرانے زخموں کو کرید کرید کر کیا کرنا

شباب ہے وقت کے ساتھ ساتھ ڈھل ہی جاتا ہے

Wednesday, 26 May 2021

ایک بے نام سی وحشت کو سجاتے وہاں جاتا تھا

 ملحدوں کا کمرہ


ایک بے نام سی وحشت کو سجاتے وہاں جاتا تھا

دوست گمنام طریقت کو اُٹھاتے وہاں جاتا تھا

ایک سے دو بجے روز تمحیصِ وجود ہستی

خام حیرت کے ستائے وہاں جاتا تھا

دوست کے پاس کتابیں تھیں

Tuesday, 25 May 2021

وہی اک تصور جاناں کہیں وہی اک جزیرہ خیال کا

 شاعر


وہی اک تصور جاناں کہیں

وہی اک جزیرہ خیال کا

وہی پانیوں پہ ہر ایک سمت ہے برف سی

وہی بے بسی ہے نہاں کہیں

کوئی جسم ہو جو عیاں کرے

وقت در وقت یہی اندیشہ ہے

 اندیشہ


وقت در وقت یہی اندیشہ ہے

زندگی میں کب کہاں آخری سویرا ہے

فعل حال، ماضی اور مستقبل

انہی سبھی نے زندگی کو گھیرا ہے

شمع جس کے سر پر آگ دہکتی ہے

Thursday, 7 January 2021

اس کو کہتے ہیں ترقی در و دیوار کے بیچ

 اس کو کہتے ہیں ترقی در و دیوار کے بیچ

در ہے دیوار میں، دیوار ہے بازار کے بیچ

تم کہیں اور مِری جان! بسیرا کر لو

کوئی آسیب مکیں ہے دلِ بیمار کے بیچ

خواب تو خواب ہیں اس جاگنے والے کی میاں

نیند بھی مرتی رہی دیدۂ بیدار کے بیچ