ملال
بچھڑ گیا ہے تو اب ملال کیا کرنا
کہ گئے ہوئے کو آواز دے کر کیا کرنا
ستم ظریفی ہے یہ اس کی تو سہ لے اسے
پرانے زخموں کو کرید کرید کر کیا کرنا
شباب ہے وقت کے ساتھ ساتھ ڈھل ہی جاتا ہے
ملال
بچھڑ گیا ہے تو اب ملال کیا کرنا
کہ گئے ہوئے کو آواز دے کر کیا کرنا
ستم ظریفی ہے یہ اس کی تو سہ لے اسے
پرانے زخموں کو کرید کرید کر کیا کرنا
شباب ہے وقت کے ساتھ ساتھ ڈھل ہی جاتا ہے
ملحدوں کا کمرہ
ایک بے نام سی وحشت کو سجاتے وہاں جاتا تھا
دوست گمنام طریقت کو اُٹھاتے وہاں جاتا تھا
ایک سے دو بجے روز تمحیصِ وجود ہستی
خام حیرت کے ستائے وہاں جاتا تھا
دوست کے پاس کتابیں تھیں
شاعر
وہی اک تصور جاناں کہیں
وہی اک جزیرہ خیال کا
وہی پانیوں پہ ہر ایک سمت ہے برف سی
وہی بے بسی ہے نہاں کہیں
کوئی جسم ہو جو عیاں کرے
اندیشہ
وقت در وقت یہی اندیشہ ہے
زندگی میں کب کہاں آخری سویرا ہے
فعل حال، ماضی اور مستقبل
انہی سبھی نے زندگی کو گھیرا ہے
شمع جس کے سر پر آگ دہکتی ہے
اس کو کہتے ہیں ترقی در و دیوار کے بیچ
در ہے دیوار میں، دیوار ہے بازار کے بیچ
تم کہیں اور مِری جان! بسیرا کر لو
کوئی آسیب مکیں ہے دلِ بیمار کے بیچ
خواب تو خواب ہیں اس جاگنے والے کی میاں
نیند بھی مرتی رہی دیدۂ بیدار کے بیچ