Thursday, 7 January 2021

اس کو کہتے ہیں ترقی در و دیوار کے بیچ

 اس کو کہتے ہیں ترقی در و دیوار کے بیچ

در ہے دیوار میں، دیوار ہے بازار کے بیچ

تم کہیں اور مِری جان! بسیرا کر لو

کوئی آسیب مکیں ہے دلِ بیمار کے بیچ

خواب تو خواب ہیں اس جاگنے والے کی میاں

نیند بھی مرتی رہی دیدۂ بیدار کے بیچ

پہلے کرتا ہے تماشا وہ سرِِ شہرِ کوئی

اور پھر ڈھونڈتا ہے سرخیاں اخبار کے بیچ

میرا دل جسم کے دریا میں اتر جاتا ہے

کشتئ روح سے اِس نفس کے منجدھار کے بیج


آصف محمود

No comments:

Post a Comment