Thursday, 7 January 2021

درد کو اکسیر کر کے جھوم جا

 درد کو اکسیر کر کے جھوم جا

قلب کو دلگیر کر کے جھوم جا

ظلمتوں کی رات میں سورج سمیٹ

تیرگی تنویر کر کے جھوم جا

قرب کی خاطر ہمیشہ زہر پی

دستِ دل کو ہیر کر کے جھوم جا

خار زاروں کو گلستاں میں بدل

چشمِ جاں شمشیر کر کے جھوم جا

پیار کی شدت بڑھانے کے لیے

قرب میں تاخیر کر کے جھوم جا

عہد کے ماتھے پہ اپنا نام لکھ

وقت کو تخسیر کر کے جھوم جا

اس جہاں میں ہے کٹھن دل کا قرار

خلد کی تدبیر کر کے جھوم کا

لکھ دے سائر ہجر میں ڈوبی غزل

سوزِِ دل تحریر کر کے جھوم جا


سائرہ سائر

No comments:

Post a Comment