درد کو اکسیر کر کے جھوم جا
قلب کو دلگیر کر کے جھوم جا
ظلمتوں کی رات میں سورج سمیٹ
تیرگی تنویر کر کے جھوم جا
قرب کی خاطر ہمیشہ زہر پی
دستِ دل کو ہیر کر کے جھوم جا
خار زاروں کو گلستاں میں بدل
چشمِ جاں شمشیر کر کے جھوم جا
پیار کی شدت بڑھانے کے لیے
قرب میں تاخیر کر کے جھوم جا
عہد کے ماتھے پہ اپنا نام لکھ
وقت کو تخسیر کر کے جھوم جا
اس جہاں میں ہے کٹھن دل کا قرار
خلد کی تدبیر کر کے جھوم کا
لکھ دے سائر ہجر میں ڈوبی غزل
سوزِِ دل تحریر کر کے جھوم جا
سائرہ سائر
No comments:
Post a Comment