ہمارے شہر میں آنے کی صورت چاہتی ہیں
ہوائیں باریابی کی اجازت چاہتی ہیں
پرندوں سے در و دیوار خالی ہو گئے ہیں
مِری آنکھیں نگر کو خوب صورت چاہتی ہیں
لکھے بھی جاؤ لوح خاک پر نقش اداسی
کہ آتی ساعتیں حرفِ شہادت چاہتی ہیں
دلوں میں قید نا آسودہ ساری التجائیں
حصارِ حرف میں آنے کی مہلت چاہتی ہیں
زبانوں پر لکھی زخمِ زباں کی لذتیں اب
در و دیوار پر رنگِ جراحت چاہتی ہیں
بہت سے خواب ان میں دھند بن کر رہ گئے ہیں
یہ آنکھیں اِذنِ گِریہ کی سعادت چاہتی ہیں
ذوالفقار تابش
No comments:
Post a Comment