Showing posts with label جمیل قمر. Show all posts
Showing posts with label جمیل قمر. Show all posts

Wednesday, 2 March 2022

حیرتیں کیسی اگر ارمان بکنے لگ گئے

 حیرتیں کیسی، اگر ارمان بِکنے لگ گئے

کیسی بستی ہے، جہاں انسان بکنے لگ گئے

اس جگہ سے نسبتوں پہ فخر کرنا ہے مجھے

جِس جگہ پر عدل کے ایوان بکنے لگ گئے

کس نے دنیا کو بنا ڈالا ہے بازارِ ہوس

دِین بکنے لگ گیا، ایمان بکنے لگ گئے

Friday, 27 August 2021

کتنا مشکل ہے مرے یار محبت کرنا

 کتنا مشکل ہے مِرے یار محبت کرنا

اور پھر تم سے لگاتار محبت کرنا

کارِ الفت کا صِلہ ہجر ہے اور ہجر فقط

اب کے کرنا بھی ہے بیکار محبت کرنا

تم نے ہر بار محبت ہی تو کی ہے لیکن

میں یہ کہتا ہوں کہ اس بار محبت کرنا

Sunday, 18 December 2016

ایک پتھر کہ دست یار میں ہے

ایک پتھر کہ دستِ یار میں ہے
پھول بننے کے انتظار میں ہے
اپنی ناکامیوں پہ آخر کار
مسکرانا تو اختیار میں ہے
ہم ستاروں کی طرح ڈوب گئے
دن قیامت کے انتظار میں ہے

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

آسماں پر اک ستارہ شام سے بے تاب ہے
میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے
رات دریا آئینے میں اس طرح آیا، کہ میں
یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے
کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محوِ خواب
سانولی رنگت میں بھی اک وصل کا کمخواب ہے

آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرنا

آج ستارے آنگن میں ہیں، ان کو رخصت مت کرنا
شام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرنا
ہر آنگن مین دِیے جلانا، ہر آنگن میں پھول کھِلانا
اس بستی میں سب کچھ کرنا، ہم سے محبت مت کرنا
اجنبی ملکوں، اجنبی لوگوں میں آ کر معلوم ہوا
دیکھنا سارے ظلم وطن میں، لیکن ہجرت مت کرنا

اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میں

اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میں
میں نے کچھ پھول کھِلا رکھے ہیں آئینے میں
تم بھی دنیا کو سناتے ہو کہانی جھوٹی
میں نے بھی پردے گِرا رکھے ہیں آئینے میں
پھر نکل آۓ گی سورج کی سنہری زنجیر
ایسے موسم بھی اٹھا رکھے ہیں آئینے میں

Saturday, 5 November 2016

دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریں

دستِ جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریں
نرم ہوا کے جھونکو، آؤ! موسم کو زنجیر کریں
موسم ابر و باد سے پوچھیں لذتِ سوزاں کا مفہوم
موجۂ خوں سے دامنِ گل پر حرفِ جنوں تحریر کریں
آمدِ گل کا ویرانی بھی دیکھ رہی ہے کیا کیا خواب
ویرانی کے خواب کو آؤ، وحشت سے تعبیر کریں

میں اس چراغ کی لو بھی بجھائے دیتا ہوں

میں اس چراغ کی لو بھی بجھائے دیتا ہوں
غزل کہی ہے تمہیں بھی سنائے دیتا ہوں
وہ دیکھو صبح میری کھڑکیوں سے آتی ہے
میں اس لیے یہ ستارے بجھائے دیتا ہوں
مجھے نشاط پہ اکساتی ہے ہوائے بہار
تو میں بہار کا دامن جلائے دیتا ہوں

Friday, 25 September 2015

دوستوں کو ذرا اپنا غم میری جاں تم دکھاتے نہیں

دوستوں کو ذرا اپنا غم میری جاں تم دکھاتے نہیں
گیت گاتے نہیں، رقص کرتے نہیں مسکراتے نہیں
صحنِ جاں کو بناتے ہو تم آج شب، اپنی محفلِ طرب
تو کبھی یہ بھی سوچا ستاروں سے آنکھیں چُراتے نہیں
اپنی محفل میں سب کو بُلاتے بھی ہو، پھر اُٹھاتے بھی ہو
یہ بتاؤ، ہمیں کیوں بُلاتے نہیں، پھر اُٹھاتے نہیں

شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا

شام عجیب شام تھی، جس میں کوئی افق نہ تھا
پھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھا
یارعجیب یار تھا جس کے ہزار نام تھے
شہر عجیب شہر تھا جس میں کوئی طبق نہ تھا
ہاتھ میں سب کے جِلد تھی، جس کے عجیب رنگ تھے
جس پہ عجیب نام تھے، اور کوئی ورق نہ تھا

شیخ کے گھر کے سامنے آب حرام ڈال دوں

شیخ کے گھر کے سامنے آبِ حرام ڈال دوں
جام و سُبو کی آگ میں اپنا کلام ڈال دوں
شہر کے اس ہجوم میں جینے کا حوصلہ رکھوں
اپنے جنوں کی آگ میں شہر کی شام ڈال دوں
صبح سے کچھ عجیب غم دشت میں ہیں ہمارے ساتھ
ان کے سروں پہ میں ذرا چادرِ شام ڈال دوں

فضا میں شعلے تھے ایسے چنگھاڑ ایسی تھی

فضا میں شعلے تھے ایسے چنگھاڑ ایسی تھی
جو رات آئی تھی ہم پر، پہاڑ ایسی تھی
مسافروں کو نظر آ رہی تھی ہجر کی رات
کہ زلزلوں سے زمیں پر دراڑ ایسی تھی
کبھی کھُلا تو کبھی بند ہو گیا اے دوست
کہ اس مکان کی قسمت کِواڑ ایسی تھی