آسماں پر اک ستارہ شام سے بے تاب ہے
میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے
رات دریا آئینے میں اس طرح آیا، کہ میں
یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے
کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محوِ خواب
کس کے استقبال کو اٹھے تھے دیوانوں کے ہاتھ
کس کے ماتم کو یہاں یہ مجمعِ احباب ہے
اس نہنگِ تشنہ سے زور آزما ہو کر جمیلؔ
بھول مت جانا کہ آگے بھی وہی گرداب ہے
جمیل قمر
No comments:
Post a Comment