Sunday, 18 December 2016

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

آسماں پر اک ستارہ شام سے بے تاب ہے
میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے
رات دریا آئینے میں اس طرح آیا، کہ میں
یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے
کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محوِ خواب
سانولی رنگت میں بھی اک وصل کا کمخواب ہے
کس کے استقبال کو اٹھے تھے دیوانوں کے ہاتھ
کس کے ماتم کو یہاں یہ مجمعِ احباب ہے
اس نہنگِ تشنہ سے زور آزما ہو کر جمیلؔ
بھول مت جانا کہ آگے بھی وہی گرداب ہے

جمیل قمر

No comments:

Post a Comment