آج ستارے آنگن میں ہیں، ان کو رخصت مت کرنا
شام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرنا
ہر آنگن مین دِیے جلانا، ہر آنگن میں پھول کھِلانا
اس بستی میں سب کچھ کرنا، ہم سے محبت مت کرنا
اجنبی ملکوں، اجنبی لوگوں میں آ کر معلوم ہوا
اس کی یاد میں دن بھر رہنا آنسو روکے، چپ سادھے
پھر بھی سب سے باتیں کرنا، اس کی شکایت مت کرنا
جمیل قمر
No comments:
Post a Comment