Showing posts with label لبنیٰ عکس. Show all posts
Showing posts with label لبنیٰ عکس. Show all posts

Tuesday, 14 February 2023

جو تم نے بھیجا مجھے آج دوستی کا گلاب

 جو تم نے بھیجا مجھے آج دوستی کا گلاب

یہ دوستی ہی نہیں، یہ ہے زندگی کا گلاب

کسی کے پیار کی جب سے بہار آئی ہے

شگفتہ ہو گیا اس دن سے شاعری کا گلاب

زمانے بھر کو یوں ہی پیار بانٹتے رہئیے

جو چاہتے ہیں مہکتا رہے خوشی کا گلاب

Sunday, 23 January 2022

ترے بہتے ہوئے اشکوں کی سفارش تھی بہت

 تِرے بہتے ہوئے اشکوں کی سفارش تھی بہت

ہاں مِری جانِ غزل رات یہ بارش تھی بہت

زندگی چین سے کب گزری کسی بھی صورت

ہر قدم پر مِرے رستے میں جو سازش تھی بہت

شہر کا شہر ہی اک دوجے کا دشمن نکلا

دل نہ مل پائے کسی کے بھی کہ رنجش تھی بہت

Sunday, 2 January 2022

محبت بھول جاؤں گی شرافت بھول جاؤں گی

 محبت بھول جاؤں گی، شرافت بھول جاؤں گی 

میں عورت ہوں مگر اپنی نزاکت بھول جاوں گی 

اگر تم اس طرح مجھ کو بھری محفل میں بولو گے 

میں اپنے نرم لہجے کی وہ عادت بھول جاوں گی

اسی دنیا میں رہتی ہوں سمجھتی ہوں میں دنیا کو

کوئی سمجھے نہ یہ دنیا کی فطرت بھول جاؤں گی

Friday, 3 December 2021

نیند آتی نہیں تو سونا کیا

 نیند آتی نہیں تو سونا کیا

خواب آنکھوں میں پھر سمونا کیا

میں نے بستر پہ خار دیکھے ہیں

اب یہی ہے مِرا بچھونا کیا

دور ہو جائیں اور کریں نفرت

آپ کم ظرف ہیں تو رونا کیا

Wednesday, 1 December 2021

جو کبھی دوسروں پہ ہنستے رہے

 جو کبھی دوسروں پہ ہنستے رہے

خود خوشی کے لیے ترستے رہے

رات بھر تیری یاد کے بادل

میرے کمرے ہی میں برستے رہے

سانپ پالے جو آستینوں میں

عمر بھر خود مجھے ہی ڈستے رہے

Tuesday, 30 November 2021

دیکھیں تو کس مقام پہ آنے لگے ہیں لوگ

 دیکھیں تو کس مقام پہ آنے لگے ہیں لوگ

اب تو مِری دعا بھی چرانے لگے ہیں لوگ

کوئی کسر رہی ہے مِرے التفات میں

تب ہی تو درمیان میں آنے لگے ہیں لوگ

گویا کسی مقام تلک آ گئی ہوں میں

تب ہی مِرا مقام گھٹانے لگے ہیں لوگ

Saturday, 27 November 2021

عشق میں شائبہ نہیں ہوتا

 یا تو ہوتا ہے، یا نہیں ہوتا

عشق میں شائبہ نہیں ہوتا

روح سے روح کے تعلق میں

جسم کا سلسلہ نہیں ہوتا

میرے ظاہر سے میرے باطن تک

تم سے کچھ بھی چھپا نہیں ہوتا

Friday, 26 November 2021

مدینے کی محبت ہی مرے دل کا ہے سرمایہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مدینے کی محبت ہی مِرے دل کا ہے سرمایہ

جو ان کی یاد میں گزرا وہ پل میرا ہے سرمایہ

نبی پاکؐ کی الفت ہی اک مومن کی دولت ہے

نبی پاکؐ کا ہی عشق مومن کا ہے سرمایہ

نبیؐ کی بات کرتے ہیں نبیؐ کا ذکر کرتے ہیں

یقیں ہے اس سے نیک اعمال کا بڑھتا ہے سرمایہ

Thursday, 9 September 2021

نجانے کیوں بڑی شدت سے یاد آیا ہے

 نجانے کیوں بڑی شدت سے یاد آیا ہے

وہ ایک شخص جو میرا نہیں پرایا ہے

میں اپنے ہاتھ کا کنگن سمجھ رہی تھی جسے

اِسے کسی نے پہن کر ابھی دکھایا ہے

کوئی جواز تو رکھنا تھا اس سے ملنے کا

سو آج زہر بھی تھوڑا سا میں نے کھایا ہے

Sunday, 25 April 2021

میں سوچتی ہوں تم سے ملاقات تو کروں

 میں سوچتی ہوں تم سے ملاقات تو کروں

جو رہ گئی ادھوری وہ بات تو کروں

میں گھر کی ڈیوڑھی پہ چراغِ وفا رکھوں

پھولوں کی تم پہ جاناں برسات تو کروں

اب میرے گھر پہ کوئی آتا بھی تو نہیں

تم کو بلانے جیسے حالات تو کروں