جو تم نے بھیجا مجھے آج دوستی کا گلاب
یہ دوستی ہی نہیں، یہ ہے زندگی کا گلاب
کسی کے پیار کی جب سے بہار آئی ہے
شگفتہ ہو گیا اس دن سے شاعری کا گلاب
زمانے بھر کو یوں ہی پیار بانٹتے رہئیے
جو چاہتے ہیں مہکتا رہے خوشی کا گلاب
جو تم نے بھیجا مجھے آج دوستی کا گلاب
یہ دوستی ہی نہیں، یہ ہے زندگی کا گلاب
کسی کے پیار کی جب سے بہار آئی ہے
شگفتہ ہو گیا اس دن سے شاعری کا گلاب
زمانے بھر کو یوں ہی پیار بانٹتے رہئیے
جو چاہتے ہیں مہکتا رہے خوشی کا گلاب
تِرے بہتے ہوئے اشکوں کی سفارش تھی بہت
ہاں مِری جانِ غزل رات یہ بارش تھی بہت
زندگی چین سے کب گزری کسی بھی صورت
ہر قدم پر مِرے رستے میں جو سازش تھی بہت
شہر کا شہر ہی اک دوجے کا دشمن نکلا
دل نہ مل پائے کسی کے بھی کہ رنجش تھی بہت
محبت بھول جاؤں گی، شرافت بھول جاؤں گی
میں عورت ہوں مگر اپنی نزاکت بھول جاوں گی
اگر تم اس طرح مجھ کو بھری محفل میں بولو گے
میں اپنے نرم لہجے کی وہ عادت بھول جاوں گی
اسی دنیا میں رہتی ہوں سمجھتی ہوں میں دنیا کو
کوئی سمجھے نہ یہ دنیا کی فطرت بھول جاؤں گی
نیند آتی نہیں تو سونا کیا
خواب آنکھوں میں پھر سمونا کیا
میں نے بستر پہ خار دیکھے ہیں
اب یہی ہے مِرا بچھونا کیا
دور ہو جائیں اور کریں نفرت
آپ کم ظرف ہیں تو رونا کیا
جو کبھی دوسروں پہ ہنستے رہے
خود خوشی کے لیے ترستے رہے
رات بھر تیری یاد کے بادل
میرے کمرے ہی میں برستے رہے
سانپ پالے جو آستینوں میں
عمر بھر خود مجھے ہی ڈستے رہے
دیکھیں تو کس مقام پہ آنے لگے ہیں لوگ
اب تو مِری دعا بھی چرانے لگے ہیں لوگ
کوئی کسر رہی ہے مِرے التفات میں
تب ہی تو درمیان میں آنے لگے ہیں لوگ
گویا کسی مقام تلک آ گئی ہوں میں
تب ہی مِرا مقام گھٹانے لگے ہیں لوگ
یا تو ہوتا ہے، یا نہیں ہوتا
عشق میں شائبہ نہیں ہوتا
روح سے روح کے تعلق میں
جسم کا سلسلہ نہیں ہوتا
میرے ظاہر سے میرے باطن تک
تم سے کچھ بھی چھپا نہیں ہوتا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مدینے کی محبت ہی مِرے دل کا ہے سرمایہ
جو ان کی یاد میں گزرا وہ پل میرا ہے سرمایہ
نبی پاکؐ کی الفت ہی اک مومن کی دولت ہے
نبی پاکؐ کا ہی عشق مومن کا ہے سرمایہ
نبیؐ کی بات کرتے ہیں نبیؐ کا ذکر کرتے ہیں
یقیں ہے اس سے نیک اعمال کا بڑھتا ہے سرمایہ
نجانے کیوں بڑی شدت سے یاد آیا ہے
وہ ایک شخص جو میرا نہیں پرایا ہے
میں اپنے ہاتھ کا کنگن سمجھ رہی تھی جسے
اِسے کسی نے پہن کر ابھی دکھایا ہے
کوئی جواز تو رکھنا تھا اس سے ملنے کا
سو آج زہر بھی تھوڑا سا میں نے کھایا ہے
میں سوچتی ہوں تم سے ملاقات تو کروں
جو رہ گئی ادھوری وہ بات تو کروں
میں گھر کی ڈیوڑھی پہ چراغِ وفا رکھوں
پھولوں کی تم پہ جاناں برسات تو کروں
اب میرے گھر پہ کوئی آتا بھی تو نہیں
تم کو بلانے جیسے حالات تو کروں