نیند آتی نہیں تو سونا کیا
خواب آنکھوں میں پھر سمونا کیا
میں نے بستر پہ خار دیکھے ہیں
اب یہی ہے مِرا بچھونا کیا
دور ہو جائیں اور کریں نفرت
آپ کم ظرف ہیں تو رونا کیا
بھر گیا دل تو جھٹ سے توڑ دیا
مجھ کو سمجھا ہے اک کھلونا کیا
جیت جانے کی اب نہیں خواہش
ہارنا کیسا اور کھونا کیا؟
آپ کے دل کی دھرتی ہے بنجر
پیار کا اس میں بیج بونا کیا
پیار دنیا میں ہے بہت انمول
ہیچ ہے چاندی اور سونا کیا
اس کا پہلے ہی عکس دل میں ہے
اور کیا اس کو اب سمونا کیا
لبنیٰ عکس
No comments:
Post a Comment